دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کسی بھی غیر مقامی باشندے نے یہاں زمین نہیں خریدی : لیفٹیٹ گورنرمنوج سنہا

کشمیر اور جموں دو آنکھیں ، کسی بھی صوبے کے ساتھ بھید بھاؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا - کہا آبادیاتی تناسب کو تبدیل کئے جانے کے خدشات میں کوئی حقیقت نہیں

نیوز ایجنسیز : سرینگر/جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے دعویٰ کیاہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدکسی ایک بھی بیرونی شخص نے جموں وکشمیر میں زمین یاجائیدادنہیں خریدی ۔وادی میں آبادیاتی تناسب کو تبدیلی کئے جانے کے خدشات کوتصوراتی خوف کاکوئی علاج نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں 90 فیصد اراضی زرعی ہے اورجموں و کشمیر کے باہر سے کوئی بھی زرعی اراضی نہیں خرید سکتا ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے اسمبلی انتخابات کوالتواءمیں ڈالے جانے کے خدشات کونکارتے ہوئے یاددہانی کرائی کہ وزیر اعظم نے 15 اگست کو کہا ہے کہ جب حد بندی کمیشن اپنا کام مکمل کرے گا تو اسمبلی انتخابات ہوں گے۔منوج سنہانے” کشمیر اور جموں کو مرکزی خطے کی دو آنکھیں“قراردیتے ہوئے کہاکہ تعمیروترقی کے معاملے میں کوئی تفریق نہیں برتی جائیگی بلکہ دونوں خطوں میں یکساں طورپرترقیاتی عمل کوآگے بڑھایاجائیگا۔ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے ایک موقر انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کودئیے ایک انٹرویو میں کہاکہ گزشتہ سال آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد کسی بھی بیرونی شخص نے/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 جموں وکشمیر میں زمین نہیں خریدی ہے۔وادی میں آبادیاتی تناسب کو تبدیلی کئے جانے کو خدشے پر ایک سوال کے جواب میں ، منوج سنہا نے کہا کہ بعض قوانین میں ترمیم سے بیرونی افراد کوجموں وکشمیر میں اراضی خریدنے کے قابل بنایا گیا ہے ، لیکن تصور شدہ خوف کا کوئی علاج نہیں ہے ۔انہوںنے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ ”مجھے کسی بھی ایک بیرونی شخص کی مثال دیجئے جس نے یہاں زمین خریدی۔انہوں نے کہاکہ مجھے ایک ہی نام بتائیں5 اگست2019کے کس نے یہاں زمین خریدی ، مجھے ایک ہی نام بتائیں۔لیفٹنٹ گورنر کاکہناتھاکہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ باہر سے کسی ایسے شخص کا نام لیا جائے جس نے یہاں زمین خریدی ہو۔ یہ بے بنیاد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں90 فیصد اراضی زرعی ہے۔اورجموں و کشمیر کے باہر سے کوئی بھی زرعی اراضی نہیں خرید سکتا ہے۔ لیفٹنٹ گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ جموں و کشمیر کے اندر زرعی ماہرین صرف مقامی لوگ ہی ایسی زمین خرید سکتے ہیں۔منوج سنہا نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کردیا کہ اسمبلی انتخابات کو التواءڈالا جائے گا ، خاص طور پر ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے جاری انتخابات کے بعد۔انہوں نے کہاکہ اسبارے میں خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ وزیر اعظم نے 15 اگست کو لال قلعے کے اطراف سے اسمبلی انتخابات کے بارے میں بات کی ہے۔ اور وزیر اعظم نے 15 اگست کو کہا ہے کہ جب حد بندی کمیشن اپنا کام مکمل کرے گا تو اسمبلی انتخابات ہوں گے۔منوج سنہا نے یہ بھی کہا کہ کشمیر اور جموں مرکزی خطے کی دو آنکھیںہیں ، اور تعمیروترقی کے معاملے میں کوئی تفریق نہیں برتی جائیگی بلکہ دونوں خطوں میں یکساں طورپرترقیاتی عمل کوآگے بڑھایاجائیگا۔منوج سنہانے کہا کہ کچھ لوگ تھے جن کو جموں اورکشمیرکے درمیان تفریق کرنے میں ذاتی مفادات حاصل ہیں،اوراسیے ہی لوگ دونوں خطوں میں علاقائی ، مذہبی ، ذات ، رنگ ونسل کی بنیاد پرتفریق ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں وقت دیجئے ہم ترقی کیلئے کام کریں اوردونوں خطوں کی بھلائی کیلئے کام کریں گے ۔جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کاکہناتھاکہ میرے خیال میں اگر انتظامیہ کے ارادے صاف ہیں ، اور حکومت کسی تفریق کے حق میں نہیں ہے تو پھر مخالفت نہیں ہوگی۔منوج سنہانے روشنی ایکٹ کے خاتمے اور اراضی قوانین کے خاتمے ، اسمبلی انتخابات کےلئے ٹائم لائن اور 4 جی خدمات کی بحالی ، اورگپکار اعلامیہ کے وادی میں آبادیاتی تبدیلی کے خوف سے نبرد آزما ہونے سے لے کر متعدد امور پر بات کی۔ایل جی سنہا نے مرکزی دھارے میں شامل سیاسی رہنماو کے خدشات کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ اسمبلی انتخابات خاص طور پر جاری ڈی ڈی سی کے انتخابات کے بعد ہی ختم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات ان ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں جن میں ڈی ڈی سی ہوتے ہیں۔ اسمبلی کا کام ڈی ڈی سی یا پارلیمنٹ سے مختلف ہے۔ تو یہ تضادکیوں اورکہاںہے؟۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں