کشمیری نوجوان امن پسند ہیں:وزیراعلیٰ- ریاست کو مشکل وقت سے نکالنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت  پرائیویٹ میڈیا چینلوں کو کشمیر پر نفرت انگیز بحث مباحثوں سے اجتناب کا مشورہ سول سیکریٹریٹ کھلنے پر وزیراعلیٰ کو گارڈ آف آنر پیش کیاگیا

08 مئ 2017 (10:58)

سرینگر کشمیر نیوز سروسجموں وکشمیر کو ہندوستان کا تاج اور جان وروح قرار دیتے ہوئے ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ 22سال تک رائے شماری کی تحریک چلانے کے بعد ’اندرا ۔عبداللہ ‘ ایکارڈ ہی ہوا جبکہ جموں وکشمیر ہے تو ہندوستان ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ نوجوان گمراہی میں پتھر بازی کرتے ہیں جبکہ نوجوانوں کی غالب اکثریت تشدد سے پاک ماحول میں رہنا پسند کرتی ہے۔قومی نیوز چینلوں کو کشمیر پر نفرت آنگیز مباحثوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کشیدہ ضرور ہے لیکن بہت جلد یہاں امن وامان قائم ہوگا کیو نکہ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسکا حل موجود نہ ہو جبکہ یہاں کے نوجوانوں کی ذہانت پر توجہ مرکوز کریں ۔ سیول سیکریٹریٹ سری نگر میں دربار مو کے روز گارڈ آف آنر کا جائزہ لینے کے بعدنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایک جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے فکر مند ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پہلی بار ایسی صورتحال نہیں بنی بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا اہلیان کشمیر کو رہا ہے ۔ان کا کہناتھا ’ صورتحال تشویشناک تو لیکن میرا ما ننا ہے کہ اس صورتحال سے بھی ہم باہر آئیں گے ،کیو نکہ کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو‘۔جموں وکشمیر کو ہندو ستان کا تاج اور جان وروح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں وکشمیر ہے تو ہندوستان ہے،ملک کے چپے چپے پر ہمیں حق حاصل ہے ۔انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو با صلاحیت ،با ہنر اور قابلیت سے بھر پورقرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر کشمیری نوجوان سنگباز نہیں ،بلکہ یہاں ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جو ملکی سطح کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے کے علاوہ ہر میدان خواہ وہ کھیل کود یا کوئی اور شعبہ اپنا لوہا منوانے کی صلاحیت وہنر رکھتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ کچھ نوجوان ناراض ہیں ،کچھ کو پتھر بازی کیلئے اُکسایا جاتا ہے ،لیکن ہر کوئی سنگباز نہیں ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر ی نوجوان ذہانت سے کافی ذرخیز ہیں ،وہ ہر ایک مقابلہ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی غالب اکثریت احتجاج اور پتھرائو سے دور رہتی ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا ’ 1996سے میں نے کافی کچھ دیکھا ،یہاں ایسے بھی حالات تھے ،کہ گھر سے باہر نکلنا محال تھا ،الیکشن مہم نہیں چلاسکتے تھے ‘۔محبوبہ مفتی نے قومی نیوز چینلوں کو کشمیر پر نفرت آنگیز مباحثوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز بحث ومباحثے سے کشمیر میں حالات اور بگڑ جاتے ہیں جبکہ یہاں کا شعبہ سیاحت متاثر ہوتا ہے اور لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ70سال یہا ں کے حالات میں اُتار چڑھائو دیکھنے کو ملا ہے ،1947 سے ہی یہاں حالات اتار چڑھائو کے شکار رہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا ’’یہاں 22سال تک رائے شماری کی تحریک چلی ،پھر اُس وقت کی لیڈر شپ کو مجبوراً اندرا ۔عبداللہ ایکارڈ ہی کرنا پڑا ‘۔ان کا کہناتھا کہ 1990سے حالات بگڑ گئے ملی ٹینسی بڑھ گئی اور صورتحال کافی خراب ہوگئے اور لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا محال بن گیا ،لیکن پھر حالات آہستہ آہستہ معمول پر آگئے ۔محبوبہ مفتی نے حالات خراب ضرور ہے لیکن کنٹرول سے باہر نہیں جبکہ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بہت جلد حالات معمول پر آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اہلیان کشمیر نے تشویشناک صورتحال کا سامنا کیا اور اس وقت جو حالات ہمارے سامنے ہے ،ان سے ہم باہر نکل آئیں گے ۔ان کا کہناتھا کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو اور میرا ماننا ہے کہ ہم اس مسئلے کا بھی حل نکالیں گے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسا نہیں نہ کہ پہلی بار یہاں ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہو بلکہ یہ معاملہ تقسیم ہند سے ہی جاری ہے ۔دریں اثنا مثالی سیکورٹی کے بیچ سرینگر میں چھ ماہ بعد دوبارہ سرکار دربار سج گیا‘ جبکہ سرینگر سیکریٹریٹ میں پہلے ہی روز خاتون وزیر اعلیٰ مفتی مفتی نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس کے چاک و چوبند دستے کی سلامی لی۔اس دوران سیکریٹریٹ جانے والے راستوں پر انتہائی چوکسی رکھی گئی تھی اور پولیس کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ۔ چھ ماہ تک جموں میں کام کرنے کے بعد سول سیکریٹریٹ کے دفاتر سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ریاست کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں کھل گئے اور تمام دفاتر نے اپنا معمول کا کام کاج شروع کیا ۔ سیکریٹریٹ کے دفاتر کھلنے کے موقعہ پر صبح10بجے سیکریٹریٹ کے احاطے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور کابینہ کے دیگر وزرائ ، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ایس پی وید ریاست کے چیف سیکریٹری بی بی ویاس اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر پولیس کے ایک خصوصی چاک و چوبند دستے نے وزیراعلیٰ کو گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد پر نامہ نگاروں سے بات چیت کی ۔ دریں اثنائ دربار مو کی سرینگر منتقلی کے ساتھ ہی شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والے لوگوں کی غیر معمولی آمد ورفت دیکھنے کو ملی اور سیکریٹریٹ کی عمارت کے باہر حسب روایت لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں ۔دربار مو کی منتقلی کے موقعہ پرشہر سرینگر کی بیشتر سڑکوں اور بازاروں میں ٹریفک جام کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں کو عبورومرور کے حوالے سے کافی دقعتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکریٹریٹ کے باہر ایک قطار میں اندر داخل ہونے کا انتظار کر رہے بعض لوگوں نے کے این ایس کو بتایا کہ انہیں اندر داخل ہونے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کا کافی وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر سیکریٹریٹ کی منتقلی کا مقصد لوگوں کی حکومت تک آسان رسائی حاصل کرنا ہے تو سیکورٹی حدود کے اندر عام شہریوں کے سیکریٹریٹ کی عما رت میں داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے ۔ کچھ لوگوں کی یہ بھی شکایت تھی کہ دفاتر سرینگر میں کھلنے کے بعد بیشتر آئی اے ایس افسران بالخصوص کمشنر سیکریٹری اور چند وزرائ جموں میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مسائل حل کرنے میں شدید مشکلات سے گذرنا پڑتاہے ۔ ادھر دربار مو کی سرینگر منتقلی کے بعد ٹریفک جام سے بچنے کیلئے بھی ٹرانسپورٹ نظام میںخصوصی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں اورکئی علاقوںکی طرف جانے والی گاڑیوں کے روٹ تبدیل کئے گئے ہیں تاہم ہڑتال کی وج سے ٹراسپورٹ پر جزوی اچر پڑا اور لوگ تریفک جام اور بے ہنگم ٹریفک سے بچ گئے۔اس موقعہ پر شہر میں حسب روایت سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے اور اہم سرکاری تنصیبات کے گردونواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اضافی اہلکار تعینات کردئے گئے تھے ۔

تبصرے