کشمیر میں تشدد آمیز واقعات ناقابل برداشت :وزیر دفاع- فوجی آفیسر کا قتل گھناونا فعل ، ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا شوپیان کے فوجی آفیسر کی ہلاکت تکلیف دہ :وزیراعلیٰ،ہلاکت ناقابل قبول :راہل گاندھی، ممتا بنرجی

10 مئ 2017 (05:12)

سرینگرنیازحسین ایجنسیزشوپیان میں اسلحہ برداروں کے ہاتھوں23سالہ فوجی آفیسر کی ہلاکت کو ’’گھناونا اور بزدلانہ حرکت‘‘ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے آج کہاکہ فوجی آفیسر کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی بلکہ کشمیر میں ملی ٹینسی کا خاتمہ کیا جائیگا ۔اس دوران فوج نے عمر فیاض کی ہلاکت کو افسوناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ مجرموںکو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا جبکہ راہل گاندھی اور ممتا بینرجی نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے ۔اس دوران ریاستی وزیراعلیٰ نے فوجی آفیسر کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی وحشیانہ حرکتیں قابل جواز ہی نہیں ہیںاور ناقابل برداشت بھی ۔ حرمین شوپیان میں فوجی آفیسر کی نعش برآمد ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے جنگجووں نے شادی کی تقریب میں اغوا کیا تھا جس کے بعد اس کی گولیوں سے چھلنی لاش کو حرمین شوپیان چوک میں پھینک دیا گیا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ نامعلوم مسلح افرادنے حرمین شوپیان کے بٹہ پورہ سے گذشتہ رات فوجی لیفٹیننٹ عمر فیاض پرے کو اغوا کرکے لے گئے۔ ضلع کولگام کے یاری پورہ کا رہنے والا عمر فیاض بٹہ پورہ میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گیا ہوا تھا۔ تاہم حرمین چوک میں بدھ کی صبح اُس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب کچھ مقامی لوگوں نے گولیوں سے چھلنی ایک لاش دیکھی۔ اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریاستی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو شناخت کے لئے اپنی تحویل میں لیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مہلوک کی شناخت عمر فیاض پرے کے بطور کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر نے حال ہی میں فوج جوائن کرلی تھی اور چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مقتول فوجی جموں خطہ کے اکھنور میں تعینات تھا۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے،چنانچہ فوج نے مذکورہ فوجی آفیسر کمیشن میت کو پورے اعزاز کیساتھ لواحقین کے حوالے کیا ہے جبکہ فوج نے اس موقعے پر عمر فیاض کی ہلاکت پر انتہائی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس کی قربانی کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے اور اس قتل میںملوث اسلحہ برداروںکو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائیگا ۔۔وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے فوجی افسر کے قتل کو بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم اسلحہ برداروں نے غیرمسلح فوجی افسر کو اغوا کرکے قتل کردیا۔ انہوں نے بتایا ’لیفٹیننٹ عمر اپنے خاندان میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے چھٹی پر آیا ہوا تھا‘۔ کرنل کالیا نے بتایا کہ مقتول نوجوان فوجی افسر جموں خطہ کے اکھنور میں تعینات تھا۔ انہوں نے بتایا ’فوج سوگوار کنبے سے تعزیت ظاہر کرتے ہوئے جاری صفحہ نمبر۱۱پر  اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ اس گھناونے فعل کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا‘۔ خیال رہے کہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع شوپیان، کولگام، اننت ناگ اور پلوامہ میں گذشتہ چھ مہینوں کے دوران جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے فوجی آفیسر عمر فیاض کی ہلاکت کو افسوناک اور وحشیانہ فعل سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ عمر فیاض ایک رول ماڈل تھا اور دیگر نوجوانوں کیلئے ایک مثال تھا کہ کس طرح سے وہ فوج میں داخل ہو کر اعلیٰ کرسی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوںنے اس ہلاکت کو بزدلانہ حرکت قراردیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوںکا کوئی مذہب نہیں ہے اور وہ انسانیت مخالف کوئی بھی کام کرسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مذکورہ آفیسر کشمیری نوجوانوں کیلئے ایک رول ماڈل بن گیا تھا جو اتنی کم عمر ی میںاپنی محنت سے اتنی بڑی کامیابی چھو گیا تھا ۔ اپنے ٹویٹ میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد بھارت کے اس عزم کو تقویت ملتی ہے کہ کشمیر میں ملی ٹینسی کا خاتمہ ناگزیر بن گیا ہے ۔انہوںنے کہا اس کی قربانی کو رائیگاں نہیں ہونے دیا جائیگا ،انہوںنے کہاکہ پورا بھارت غمزدہ خاندان کیساتھ کھڑا ہے اور ان لوگوں کی پہنچان کے بعد انہیں سزا ضرور ملے گی جو کہ اس قتل میں قصوروار ٹھہریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کشمیر میں تشدد کیلئے کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی گنجائش باقی ہے تاہم انہوںنے کہاکہ فوج کشمیر میں دراندازی کو روکنے اور ملی ٹینسی کا خاتمہ کرنے کیلئے پوری طرح سے تیار بھی ہے اور پوری صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ فوجی آفیسر کی ہلاکت کے بعد اب کشمیر میں تشدد کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے اور فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ ان جنگجووں کی تلاش کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔ادھر کانگریس کے راہل گاندھی نے بھی کشمیر میںفوجی آفیسر کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کشمیر میں جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیںان کی وجہ مخلوط سرکار کی ناکامی ہے لیکن اس کے باوجود بھی فوجی آفیسر کا قتل ناقابل برداشت ہے اور پورا دیش ا س معاملے پر غمزدہ کنبے کیساتھ ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہے ۔ممتا بینر جی نے بھی اس واقعے پر صدمے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ نوجوان فوجی آفیسر کی ہلاکت کو کسی بھی طور پر قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور جو لوگ اس قتل میںملوث ہونگے ان کیخلاف فوری کاروائی عمل میںلائی جائے ،ادھر ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے شوپیان میں فوجی آفیسر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی ہلاکتیں امن کیلئے ایک دھچکا ہیں اور کسی بھی طور پر ان ہلاکتوںکو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ وحشیانہ فعل ہے اور مجرموںکو کیفر کردا ر تک ہی پہنچانا ناگزیر بن گیا ہے ۔

تبصرے