وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو کشمیری عوام کے جذبات واحساسات سے آگاہ کیا- وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست میںموجودہ حکومت کے دوران ایجنڈ اآف الائنس پر عمل آوری کا یقین دلایا,

12 اگست 2017
<p>وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو کشمیری عوام کے جذبات واحساسات سے آگاہ کیا- وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست میںموجودہ حکومت کے دوران ایجنڈ اآف الائنس پر عمل آوری کا یقین دلایا</p>,

نئی دہلی/وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو نئی دہلی میں ہیں نے بعد دوپہر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔آئین ہند کی دفعہ35-A جوجموں وکشمیر ریاست کے شہریوں کے خصوصی حقوق کی ضامن ہے، پر جاری بحث و مباحثوں کے تناظر میں یہ ملاقات کافی اہمیت کی حامل ہے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کے ساتھ جموں وکشمیر کے عوام کی جذباتی وابستگی کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ اس کی منسوخی سے متعلق بحث و مباحثوں سے ریاستی عوام کے قلب و اذہان میں خدشات پیدا ہورہے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ اس قسم کے بحث و مباحثوں اور مانگوں کا ریاست کی صورتحال میں بہتری لانے کی کوششوں پر منفی اثر پڑرہا ہے جوریاستی اور مرکزی حکومتوں کی کوششوں سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے کہا ’’ اس قسم کے مباحثوں اور مانگوں سے ریاست او رملک کا ماحول زہر آلو ہورہا ہے جس سے لوگوں کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں‘‘۔آئین ہند کی دفعہ370 کو ریاست اور مرکز کے مابین آئینی رشتوں کی بنیاد قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے نریندر مودی سے کہا کہ مسلم اکثریتی جموں اور کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کر کے دو قومی نظریے کو مسترد کیا اور اسی کے نتیجہ میں ریاست کی آرزؤں، اُمنگوں اور شناخت کے تحفظ کے لئے آئینی ضمانت دی گئی۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے اُبھارے گئے خدشات اور تشویش کے مثبت ردعمل میں وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان طے پایا گیااتحاد کا ایجنڈہ ہی ریاست پرکسی بھی بحث و مباحثے کی بنیاد ہوناچاہئے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی معیاد کے دوران ریاست میں ایجنڈا آف الائنس کی کامیاب عمل آوری کا بھی اعادہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے گذشتہ شام اس ضمن میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سے بھی ملاقات کی تھی۔ادھر مقامی خبررساں ایجنسی کے این ایس کے مطابق خصوصی پوزیشن کے مستقبل کولیکرڈانواںڈول صورتحال‘‘کے چلتے مرکزی سرکارنے ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ کوآئینی ضمانتیں قائم رکھنے کی کوئی گارنٹی نہیں دی ۔تاہم وزیراعظم نریندرامودی کیساتھ جمعہ کی صبح نئی دہلی میں اہم ملاقات کے بعدریاستی وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنھیں وزیراعظم نے آرٹیکل35-Aکااحترام کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔اس دوران میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ جمعرات کی شام ملاقات کے دوران مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے خصوصی آئینی پوزیشن برقراررکھے جانے کے بارے میں وزیراعلیٰ کوکوئی ضمانت یاگارنٹی نہیں دی ۔ادھرسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے محبوبہ مفتی کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خصوصی پوزیشن سے متعلق وزیر اعظم کے آفس کی جانب سے کی یقین دہانی کرائی جانی چاہئے ۔ جموںوکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن سے متعلق 2 اہم دفعات یعنی آرٹیکل 35-A اور دفعہ 370 کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر عرضیوں کو سماعت کیلئے منظور کئے جانے اور دونوں عرضیوں کے بارے میں مرکزی سرکار سے جواب طلب کئے جانے کے نتیجے میں کشمیر وادی میں سیاسی اور عوامی سطح پر بے چینی کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ اسی صورتحال کے چلتے منگل کی شام وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ/
 ، عمر عبداللہ اور کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرکے نئی پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ بدھ کی صبح وزیر اعلیٰ نے خصوصی پوزیشن سے متعلق مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 3 سینئر مین اسٹریم لیڈران بشمول حکیم محمد یاسین ، محمد یوسف تاریگامی اور غلام حسن میر کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں ۔ ان ملاقاتوں کے دوران وزیر اعلیٰ پر بائور کرایا گیا کہ خصوصی پوزیشن کو تحفظ فراہم کرنا موصوفہ کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ہیں ۔ مین اسٹریم لیڈرشپ کے ساتھ آرٹیکل 35-A اور دفعہ 370 کو زیر غور لانے کے بعد وزیر اعلیٰ جمعہ کے روز نئی دہلی روانہ ہوئیں ، جہاں انہوں نے شام کے وقت مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی ۔ اس ملاقات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ راجناتھ سنگھ نے خصوصی پوزیشن بر قرار رکھے جانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ۔ موقر انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک نیوز رپورٹ میں محبوبہ مفتی اور راجناتھ سنگھ کی ملاقات کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ غالباً مرکزی سرکار آرٹیکل 35-A یا دفعہ 370 کے حوالے سے اپنی جانب سے کوئی حلف نامہ سپریم کورٹ میں دائر نہیں کرے گی بلکہ مرکزی سرکار چاہتی ہے کہ عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل اس معاملے کا دفاع کریں ۔ ادھر ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے خصوصی پوزیشن بچائو مہم کے تحت جمعہ کے روز نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندرا مودی کے ساتھ پارلیمنٹ ہائوس کے ہال میں اہم ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد خاتون وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیر اعظم نے انہیں خصوصی پوزیشن کا احترام کرنے کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ انہیں وزیر اعظم نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی حکومت آرٹیکل 35-A اور دفعہ 370 کا احترام کرے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان ایجنڈا آف الائنس میں یہ بات شامل ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کو ہر صورت میں برقرار رکھا جائیگا ۔,

تبصرے