کروڑوں کا کشمیری مال چکوٹھی ٹریڈ سنٹر پر سڑ رہا ہے ٹرک ڈرائیوروں کا مال لوڈ کرنے سے صاف انکار

12 اگست 2017

سرینگر /آر پار یکطرفہ تجارت کی بحالی زیادہ دیر تک قایم نہیں رہ سکی کیونکہ چکوٹھی ٹریڈ سنٹر میں وادی کشمیر سے تاجروں نے جو مال بھیجا تھا اس کو ٹریڈ سنٹر سے ٹرک ڈرائیوروں نے لوڈ کرنے سے انکار کردیا جس سے اس تجارت سے وابستہ آر پار تاجر پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق 21جولائی کو مظفر آباد سے جانے والے ایک مال بردار ٹرک سے کشمیر پولیس نے اوڑی میں 66کلو گرام ہیروین بر آمد کرنے کا دعوی کیاتھا جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت تین کروڑ سے زیادہ لگائی جارہی ہے ۔پولیس نے اس ٹرک ڈرائیور کو بھی گرفتار کرلیا جس کے ٹرک سے منشیات بر آمد کی گئی تھیں ۔چنانچہ اس کے بعد آر پار تجارت کئی دنوں تک معطل رہنے کے بعد آر پار تاجروں کا اوڑی میں کمان پل پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اعلی افسروں نے بھی شرکت کی اور اس میں ایک بار پھر تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیاگیا جس کے /
 بعد وادی کشمیر سے کئی کروڑ کا مال مظفر آباد بھیجا گیا لیکن وہاں سے کوئی بھی ٹرک یہاں نہیں آسکا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ٹرک ڈرائیور ہڑتال پر ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب تک گرفتار کئے گئے ٹرک ڈرائیور جس کا نا م محمد یوسف بتایا گیا کو رہا نہیں کیا جاے گا تب تک وہ مال نہیں اٹھاینگے ۔جس کی بنا پر چکوٹھی کے ٹریڈ سنڑ پر مال کئی دنوں سے یوں ہی پڑا ہے اور اسطرح آر پار تجارت پر پھر گہرے بادل چھا گئے ہیں ۔ٹرک ڈائیوروں نے کہا کہ اب تک کشمیر میں تین ٹرک ڈرائیور گرفتار کئے گئے اور جب تک ان کو رہا نہیں کیا جاے گا تب تک کوئی بھی ٹرک ڈرائیور کشمیری مال لوڈ کرکے پاکستانی منڈیوں تک لے کر نہیں جاے گا۔

تبصرے