نماز جمعہ کے بعد شہری ہلاکتوں کیخلاف وادی میں احتجاجی جلوس برآمد - شہر خاص ، شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیںکئی زخمی

12 اگست 2017
<p>نماز جمعہ کے بعد شہری ہلاکتوں کیخلاف وادی میں احتجاجی جلوس برآمد - شہر خاص ، شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیںکئی زخمی</p>

سرینگر/ جی ایم سوپوری /نیازحسین /جے کے این ایس / اے پی آئی /نماز جمعہ کے بعد شہر خاص،شمالی اور جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے آنسوں گیس کے گولے داغے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز شہر سرینگر سمیت وادی کے کئی علاقوں میں معمولی خشت باری کے واقعات رونما ہوئے ۔ نوڈل ترال میں عام شہری کی ہلاکت کے خلاف وادی /
 کے اطراف و اکناف میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ کئی علاقوں میں پُر امن جلوس بھی برآمد ہوئے ۔ نمائندے کے مطابق نماز جمعہ کے بعد تاریخی جامع مسجد سے نوجوانوں نے ایک جلوس نکالا تاہم پہلے سے تعینات پولیس وفورسز نے نوجوانوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق مشتعل ہجوم نے گوجوارہ اور نوہٹہ میں فورسز پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے آنسوں گیس کے گولے داغے گئے جس کی وجہ سے نوہٹہ ، گوجوارہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں افراتفری کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ نمائندے کے مطابق اضافی پولیس وفورسز کو تعینات کرنے کے بعد حالات دوبارہ معمول پر آئے ۔نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سوپور میں بھی لوگوں کی کثیر تعداد نے احتجاجی جلوس نکالا جس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے آنسوں گیس کے گولے داغے جس کی وجہ سے سوپور اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ ادھر جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوںمیں فوج اور فورسز کے ہاتھوںجان بحق عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کی یاد میں مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔نمائندے کے مطابق ترال میں تین مقامی جنگجوئوں اور عام شہری کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں جمعہ کو ہرتال رہی،جس کے دوران کاروباری اداریے ، دوکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری متاثر ہوئی۔ہڑتال کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں اسکول اور تعلیمی ادارے بند رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی،تاہم کئی روٹوں پر نجی گاڑیوں کی آوجاہی دیکھنے کو ملی۔ترال اور پلوامہ کے کئی علاقوں میں چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔ ضلع میں خارجی اور داخلی راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا اور سخت پوچھ تاچھ کے بعد ہی اکا دکا افراد کو آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی۔نمائندے کے مطابق نو پورہ ترال میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد حالات معمول پر آئے ۔ ادھر پلوامہ کے کئی علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد جاں بحق عساکر کی یاد میں جزوی ہڑتال رہی ، نماز جمعہ کے بعد کئی علاقوں میں احتجاجی جلوس بھی برآمد ہوئے ۔

تبصرے