کشمیر کے معاملے پر دہلی میں اپوزیشن جماعتیں سرگرم-  سبھی کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں تیز، نئی دہلی میں ’کشمیر کانفرنس‘منعقد کرنے کی تیاریاں

12 مئ 2017 (06:23)

نئی دہلی سرینگر یو ا ین آئی وادی کشمیر میں جاری کشیدہ حالات پر قابو پانے کیلئے نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا ﴿مارکسسٹ﴾، کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا ﴿سی پی آئی﴾ اور جنتا دل ﴿یونائٹیڈ﴾ نے کشمیر کو موجودہ بحرانی صورتحال سے باہر نکالنے اور پائیدار امن کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں بشمول مرکز اور ریاست ﴿جموں وکشمیر﴾ میں برسر اقتدار بھاتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اپوزیشن نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ معروف دانشوروں اور سول سوسائٹی اراکین کو بھی اس عمل کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ تاحال کسی بھی اپوزیشن جماعت نے اس اقدام کے حوالے سے میڈیا میں کھل کر بات نہیں کی ہے ، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر گذشتہ تین ہفتوں کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے درمیان ہونے والی پے در پے ملاقاتوں سے صاف عندیہ ملتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے قومی سطح پر ایک موثر لابنگ شروع ہوچکی ہے جس کا مقصد کشمیر میں بار بار کے کشیدہ حالات پر مستقل طور پر قابوپانا ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں نے کشمیر میں امن کی بحالی کے حوالے سے ابتدائی طور پر نئی دہلی میں ایک ’کشمیر کانفرنس‘منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امکانی طور پر اگلے ماہ یعنی جون میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ معروف دانشوروں اور سول سوسائٹی اراکین کو مدعو کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس کے مدعوئین کشمیر کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں گے جن کی بنیاد پر بعدازاں ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ مجوزہ کانفرنس کے منتظمین کسی بھی علیحدگی پسند راہنما کو مدعو نہیں کریں گے ، تاہم متعدد اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند ایک اپوزیشن جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مرکزی سرکار کے اختیار کردہ حالیہ موقف ’کہ مرکزی سرکار کشمیر پر علیحدگی پسندوں سے نہیں بلکہ قانونی طور پر منتخب نمائندوں سے ہی بات کرے گی‘پر ناخوش ہیں۔ خیال رہے کہ اٹارنی جنرل آف انڈیا مکل روہتگی نے28اپریل کو سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار کا ’کشمیر کے حالات‘پر موقف پیش  کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کشمیر میں صرف عوامی سطح پر قانونی طور پر منتخب نمائندوں سے ہی بات کرے گی نہ کہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ۔ اٹارنی جنرل کے بیان کے ایک روز بعد بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے حکومتی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتِ ہند علیحدگی پسندوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گی جو بقول اُن کے مردوں پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وادی میں طالب علموں اور دیگر نوجوانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ اور جنگجویانہ سرگرمیوں میں آنے والی تیزی ایک تشویشناک امر ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں طلبائ اور دیگر نوجوانوں کے احتجاجوں پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال کی نہیں بلکہ سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے ۔رپورٹوں کے مطابق گذشتہ منگل کو مجوزہ کشمیر کانفرنس کے کلیدی منتظمین سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور جنتا دل ﴿یونائٹیڈ﴾ کے راہنما شرد یادو کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں مجوزہ کانفرنس کے حوالے سے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ لیا گیا۔ اس چار رکنی کمیٹی میں سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور سینئر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا کے ناموں کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے ۔ ان رپورٹوں کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹی کے اراکین دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور کشمیر کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے دانشوروں اور سول سوسائٹی اراکین جیسے وجاہت حبیب اللہ اور سابق 'را' چیف ایس اے دُلت کو کشمیرکے موجودہ حالات پر اپنی آرائ کے اظہار کے لئے مدعو کریں گے ۔ مختلف سیاسی قائدین، دانشوروں اور سول سائٹی اراکین کے تاثرات حاصل کرنے کے بعد مرکزی حکومت کو وادی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حل کے لئے ایک مفصل رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لئے سخت تگ و دو شروع کردی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر سیاستدان فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کے اپنے حالیہ دورے کے دوران جہاں کچھ اپوزیشن راہنماؤں کو کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کی جانکاری دیتے ہوئے ان سے اس سمت میں فوری اقدامات اٹھانے کی مانگ کی، وہیں وزیراعظم نریندر مودی کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا کوئی سیاسی حل نکالا جانا چاہیے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس صدر نے نئی دہلی میں ہونے والی ’کشمیر کانفرنس‘کی تائید کی ہے ۔ دریں اثنا ’کشمیر کانفرنس‘کے انعقاد کے حوالے سے نئی دہلی میں سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے ۔ جہاں حالیہ دنوں کے دوران جے ڈی ﴿یو﴾ راہنما شرد یادو نے کانگریس کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ دو بار ملاقات کی، وہیں بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے مسٹر یادو، فاروق عبداللہ نے سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈی راجا اور شرد یادو نے سیتا رام یچوری اور ڈی راجا سے ملاقاتیں کیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کانگریس سربراہ سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد مجوزہ ’’کشمیر کانفرنس‘‘کی حتمی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کانفرنس کے ذریعے مرکزی اور ریاستی کو کشمیر کے حوالے سے کچھ سیاسی اقدامات اٹھانے کے لئے کہا جائے گا۔

تبصرے