کنٹرول لائن پر مسلسل اور شدید گولہ باری - آر پار مزید ہلاکتیں، ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ ، درجنوں کنبے ترک سکونت کرگئےسرحدوں پر جنگ جیسی صورتحال سے ہندپاک تعلقات انتہائی کشیدہ

13 مئ 2017 (04:51)

جموں کشمیر نیوز سروس حد متارکہ پر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہونے کے بیچ نوشہرہ سیکٹر راجوری میںسنیچر کو مسلسل تیسرے روز بھی برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج نے ایکدوسرے پر جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں آر پار2عام شہری ہلاک اور نصف درجن افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ۔اس دوران سرحدی کشیدگی اور تنائو کے باعث راجوری کے سر حدی علاقوں میں غیر معینہ عرصے کیلئے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے اور اسپتالوں میں ڈاکٹر وں میں چھٹیاں منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ قریب2000افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔اس دوران دونوں ممالک نے حسب روایت ایکدوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ۔جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لکیر ایک مرتبہ پھر میدان ِ جنگ میں تبدیل ہوئی کیو نکہ ہند پاک افواج نے ایکدوسرے کے خلاف ایک مرتبہ پھر جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور سنیچر کو مسلسل تیسرے روز بھی طرفین کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔آر پار آتشی گولہ باری کے نتیجے میں آر پار جانی ومالی نقصان کی اطلاعات ہیں ۔ہند پاک افواج کے درمیان نوشہرہ سیکٹر راجوری میں حد بندی لکیر پر گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔آر پار گولہ باری کے نتیجے میں نوشہرہ سیکٹر میں 2عام شہریوں کی موت ہوئی جبکہ متعدد زخمی ہوئے ۔اس  دوران آتشی گولہ باری کے سبب کئی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح 7بجکر 15منٹ پر ہند پاک افواج کے درمیان آتشی گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا ،جو وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہی ۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل منیش مہتا نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنا نے کی غرض سے بلا اشتعال فائرنگ اور شلنگ کی ۔ان کا کہناتھا کہ جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر پاکستانی فوج نے خلاف ورزی کی اور نوشہرہ سیکٹر میں یہ واقعہ پیش آیا ۔دفاعی ترجمان نے بتا یا کہ چوٹھے ہتھیاروں کے علاوہ پاکستانی فوج نے خود کار ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ،جس دوران پاکستانی فوج کی جانب سے 82ایم ایم اور120ایم ایم ماٹر شل داغے ۔دفاعی ترجما ن نے بتایا کہ یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب مئوثر انداز میں دیا ۔ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری شاہد اقبال چودھری نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں2عام شہری ہلاک اور 3دیگر زکمی ہوئے ۔ان کا کہناتھا کہ مزید 100افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستانی فوج نے جن گڑھ ،بھوانی ،لام سیکٹر میں فائر نگ اور شلنگ کی جسکی وجہ سے جان ومالی نقصان ہوا۔یاد رہے کہ جمہ کو بین الاقوامی سرحد پر آر پار آتشی گولہ باری میں بی ایس ایف اہلکار زخمی ہوا تھا جبکہ 10اور11مئی کو نوشہرہ سیکٹر راجوری میں 35سالہ اختر بی ہلاک اور اس کا شوہر محمد حنیف زخمی ہوا ۔اطلاعات کے مطابق سنیچر کو بھی ہند پاک افواج کے درمیان آتشی گولہ باری کاسلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔سرحدی کشیدگی اور تنائو کے بیچ ضلع انتظامیہ راجوری نے حد بندی لکیر کے نزدیک واقع تعلیمی اداروں کو غیر معینہ عرصے کیلئے بند رکھنے کی ہدایت دی ۔معلوم ہوا ہے کہ جموں خطے میں اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی چھٹیا ں بھی منسوخ کی گئیں ۔بعض رپورٹروں کے مطابق ان تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر پناہ گاہ کے بطور استعمال کیا جارہا ہے کیو نکہ عام شہریوں کو شلنگ اور فائرنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے کئی دیہات کے لوگوں کو یہاں منتقل کیا گیا ۔بعض رپورٹس کے مطابق کچھ کنبوں نے عارضی طور پر نقل مکانی بھی کی ،تاکہ سرحدی کشید گی سے وہ محفوظ رہ سکے ۔معلوم ہوا ہے کہ1500سے زیادہ افراد کو محفوظ مقا مات پر منتقل کیا گیا ۔ان افراد راجوری کے کئی سرحدی علاقوں سے نکالا کیا گیا جو آر پار فائرنگ اور شلنگ کے سبب زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستانی کی جانب سے268مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہوئیں ،جس دوران 9افراد تین واقعات کے دوران جاں بحق ہوئے ۔را جیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے دفاع سبھاش بہمرے نے بتایا کہ اپریل2016سے مارچ2017تک88مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں پاکستان کی جانب سے ہوئیں ۔ان کا کہناتھا کہ نو مبر 2016میں78مرتبہ اکتوبر میں78اور مارچ 2017میں 22مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں پاکستان کی جانب سے ہوئیں ۔ادھر پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر سیز فائر کی خلاف ورزی لائن آف کنٹرول ﴿ایل او سی﴾ پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں3 شہری زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ﴿آئی ایس پی آر﴾ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی سے متصل مختلف علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 شہری زخمی ہوگئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق زخمی افراد میں حاجی محمد یونس، ریحانہ بی بی اور سمینہ بیگم شامل ہیں۔آئی سی پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی سے ملحقہ 7 مختلف مقامات پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔یاد رہے کہ 2003میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا ،تاہم اس کے باجود یہاں کئی مرتبہ طرفین کے مابین آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس میں دونوں اطراف سے جانی و مالی نقصان ہوا ۔

تبصرے