ہلاکت خیز گولہ باری کے بعد ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پرمنتقل- لائن آف کنٹرول پر ایک سو سے زیادہ سکول کالج بند ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی برقرار پاکستان کو سبق سکھایاجائے گا :ڈاکٹرجتندرسنگھ

14 مئ 2017 (04:39)

جموں کشمیر نیوزسروس ہندوپاک افواج کی ہلاکت خیز گولہ باری کے بعدحدمتارکہ کے آرپارہزاروں لوگ گھربارچھوڑکرمحفوظ مقامات پرمنتقل ہوگئے جبکہ لائن آف کنٹرول کے آرپار100سے زیادہ تعلیمی اداروں کوتاحکم ثانی بندکردیاگیاہے ۔اس دوران دونوں ملکوں کی افواج نے ایکدوسرے پرجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کاالزام عائدکرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکیوں کااعادہ کیاہے۔وزیراعظم آفس میں تعینات مرکزی وزیرڈاکٹرجتندر سنگھ نے خبردارکیاکہ پاکستان کوایساسبق آموزجواب دیاجائیگاجوابتک کبھی نہیں دیاگیا واضح رہے گزشتہ48گھنٹوں کے دوران ضلع راجوری میں آرپارگولہ باری کی زدمیں آکر3عام شہری زخمی اورکئی خواتین سمیت2درجن دیگرعام شہری زخمی بھی ہوچکے ہیں ،اورکئی اسکولی عمارات اوررہائشی ڈھانچوں کوبھی بھاری نقصان پہنچاہے۔ صوبہ جموں کے سرحدی اضلاع راجوری اورپونچھ کے سرحدی علاقوں میں ہندوپاک افواج اوریم فوجی دستوں کے درمیان گزشتہ کئی روزسے جاری شدیدنوعیت کی گولہ باری کے بعدنقل مکانی کاسلسلہ جاری ہے جبکہ سرحدپاربھی ایسی ہی صورتحال پائی جاتی ہے ۔گزشتہ24گھنٹوں کے دوران نوشہرہ،نکیال ، بڑئواوردیگرکئی سیکٹروں میں سرحد کے آرپارہزاروں لوگ گھربار اورمال مویشی چھوڑکرمحفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول کے آرپاروقفہ وقفہ سے گولہ باری اورمارٹرشلنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے باعث 100سے زیادہ تعلیمی اداروں کوغیرمعینہ عرصہ کیلئے بندکردیاگیاہے ۔ اس دوران وزیراعظم آفس میں تعینات مرکزی وزیرڈاکٹرجتندر سنگھ نے خبردارکیاکہ پاکستان کوایساسبق آموزجواب دیاجائیگاجوابتک کبھی نہیں دیاگیا ۔انہوں نے جموں میں ایک تقریب  کے حاشیے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان فوج اوررینجرس اپنی حرکتوں سے بازنہیں آرہے ہیں ،اسلئے بھارت فوج کی جانب سے ایسی مثالی کارروائی عمل میں لائی جائیگی ،جوابتک کبھی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ڈاکٹرجتندر سنگھ نے کہاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ خوداسبات کے گواہ ہیں کہ جوکارروائی حالیہ کچھ ماہ کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے عمل میں لائی جارہی ہے ،ایسی کارروائی اسے پہلے کبھی نہیں کی گئی تھی ۔انہوں نے واضح کیاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے جان ومال کوتحفظ فراہم کراناسرکاراورانتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،اوراسی ذمہ داری کے تحت لگ بھگ ایک ہزارلوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔ جموں میں دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج اور رینجرس نے توار کی صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے ضلع راجوری کے منج کوٹ سیکٹر میں کئی آبادی والے علاقوں پر گولی باری کی ۔ دفاعی ترجمان کرنل منیش مہتا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے نوشہرہ سیکٹر اور دیگر کچھ علاقوں میں گولہ باری کے ساتھ ساتھ مارٹر شیلنگ بھی کی گئی ۔ اُدھر ڈپٹی کمشنر راجوری شاہد اقبال چودھری نے تازہ فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع راجوری کے چھنگس علاقہ میں سرحد پار سے گولہ باری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب 978 کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا جبکہ اتوار کی صبح سے مزید 259 کنبوں کو ریلیف کیمپوں میں پہنچایا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع راجوری کے نوشہرہ علاقہ میں 51 اسکول بند پڑے ہیں اور جب تک صورتحال معمول پر نہیں آجائیگی ، تب تک اسکول میں درس و تدریس کا عمل دوبارہ شروع نہیں کیا جائیگا ۔بیا ن کے مطابق اس سے قبل علی الصبح لائن آف کنٹرول کے کھوئی رٹہ سیکٹر پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کی گئی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے الزام لگایاکہ بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدے اورعالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 شہری زخمی ہوئے۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے زخمی ہونے والوں میں2 خواتین بھی شامل ہیں، زخمیوں کی شناخت محمد یونس، ریحانہ کوثر اور ثمینہ کوثر کے نام سے ہوئی جنہیں طبی امداد کیلئے ٹی ایچ کیو اسپتال کھوئی رٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

تبصرے