عسکریت پسندوںکیخلاف اوپریشن کی تیاریاں دراندازی بند نہ ہوئی تو سرحد پار سرجیکل سٹرائیک کا عمل دہرایاجائے گا: فوجی سربراہ

15 مئ 2017 (05:38)

نئی دہلی کشمیر میں’’ جنگجوئوں کو علیحدہ کرو اور نشانہ بناو‘‘ کی پالیسی پر گامزن رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے فوجی سربراہ نے خبردار کیا کہ فوجی آفیسر کے قتل میںملوث جنگجووں کیخلاف عنقریب فوجی آپریشن شروع کیاجائیگا ،۔اس دوران انہوںنے واضح کر دیا کہ کشمیر کی صورتحال پر فوج باریک بینی سے نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اب کشمیری عوام کو امن بحالی کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی ۔فوجی سربراہ نے پاکستان کو بھی خبردار کیا کہ اگر سرحد پار کی دراندازی بند نہیں کی تو فوج سرجیکل سٹرائیکس کے عمل کو ضرور دہرائے گی ۔ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ فوج کو عوامی معاملات میںمداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ہے لیکن جنگجووں کیخلاف آپریشن کیلئے فوج کو مامور کیا گیا ہے اور اس سے فوج پیچھے نہیں ہٹ سکتی ہے ۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ فی الوقت فوج کشمیر میں ’’جنگجووں کو علیحدہ کرو اور نشانہ بناو کی پالیسی پر گامزن ہے کیونکہ جو صورتحال بن رہی ہے اس میں یہی ایک پالیسی کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں جنگجووں کیخلاف آپریشن ممکن نہیں ہے لہذا اب فوج ان جنگجووں کو الگ تھلک کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ ان کو نشانہ بنایا جا سکے ۔انہوںنے فوجی آفیسر کے قتل میں ملوث جنگجووں کیخلاف کاروائی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان مجرموںکو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا ۔اس سلسلے میںانہوںنے اشارہ دیا کہ عنقریب ان جنگجووں کیخلاف آپریشن شروع کئے جائیں گے تاکہ ان کو ان کے کئے کی سزا مل سکے ۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوںنے حال ہی میںکشمیر کا دور روزہ دورہ بھی کیا جس کے دوران انہوںنے نہ صرف اندرون کشمیر صورتحال کا احاطہ کیا بلکہ فوجی کمانڈروں کیساتھ اہم تبادلہ خیال کیا جس کو دیکھتے ہوئے بعد میں فوجی چوکیوں کا بھی دورہ کیا ۔انہوںنے کہاکہ اندرون کشمیر فوج امن بحالی میں سرکار کی مدد کر رہی ہے اور جہاں کہیں بھی جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گے فوج ان کے پیچھے تعاقب کریگی ۔جنرل بپن راوت کا مزید کہنا تھا کہ جوں ہی ہمیں فوجی آفیسر کے قتل میں مارے گئے جنگجوئوں سے متعلق کوئی سراغ ملے گا ان کیخلاف فوری آپریشن شروع کیا جائیگا ۔انہوںنے کہاکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ کام سونپا گیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ان تین اشتہاری جنگجووں کے بغیر بھی کیا کوئی فوجی آفیسر کی ہلاکت میںملوث اس کی بھی جانچ ہو رہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ فوج اس بات سے باخبر ہے کہ کشمیری مجموعی طور پر ملی ٹینسی کیساتھ نہیں ہیں اور اجتماعی طور  پر سبھی کشمیری ملی ٹنسی کے طرفدار نہیں ہے لیکن کچھ ایک عناصر ہیں جو مخصوص نمبر پر ہیں وہ ملی ٹینسی اور امن دشمن قرار دیئے جا سکتے ہیں۔لہذا ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو ان امن دشمنوں سے الگ کر سکیں تاکہ وہ آسانی کیساتھ جی سکیں اور پر امن ماحول میں سانس لے سکیں ۔ فوجی آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ میری کشمیری عوام سے اپیل ہے کہ وہ امن دشمنوں کو بے نقاب کریں تاکہ امن بحالی کیلئے اجتماعی سطح پر کوششیں کی جاسکیں ۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے فوجی سربراہ بپن راوتھ نے کہاکہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی پوزیشن مضبوط ہے جس کی وجہ سے پاکستانی فوج بوکھلاہٹ کی شکار ہوگئی ہے جس کے باعث وہ اب بوکھلاہٹ کی شکار ہوچکی ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ کنٹرول لائن پر سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کر رہا ہے تاکہ ان علاقوںمیں عد م استحکام پیدا کیاجا سکے اور وہ کنٹرول لائن پر دراندازی کویقینی بنا یا جا سکے ۔ انہوںنے پاکستان کو خبردار اگر پاکستان کنٹرول لائن پر دراندازی کرانے سے باز نہیں آیا تو یقینی طور پر فوج سرجیکل سٹرائکس کا عمل دہرائے گی ۔انہوںنے کہاکہ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں ،تاہم انہوںنے کہا کہ مجموعی طورپر ہم کسی کو بھی گزند نہیں پہنچانے کے موڑ میں نہیں ہیں۔

تبصرے