طلبہ و طالبات کے احتجاجی مظاہرے جاری پٹن، حاجن ،لارکی پورہ ، گاندربل اور شہر خاص میں پتھرائو لاٹھی چارج، شیلنگ اورہوائی فائرنگ، درجنوں زخمی

16 مئ 2017 (05:39)

سرینگر کے ایم این وادی کے شمال وجنوب میں طلبا و طالبات کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور منگلوار کو پٹن بارہمولہ اور حاجن بانڈی پورہ میں احتجاجی طلبہ پرلاٹھی چارج ، ٹیر گیس شیلنگ اور پیلٹ فائرنگ میں درجنوںطلبہ زخمی ا ور طالبات بیہوش ہوگئیں۔ادھر لارکی پورہ اننت ناگ میں فوج کے ہاتھوں طلبہ کی مارپیٹ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے وسط میں پولیس اور فورسز نے گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ میں زیر تعلیم طلبہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جس کے بعد طلبہ اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپوں میں60سے زائد طلبہ زخمی ہوگئے۔تب سے وادی کے شمال و جنوب میں طلبہ و طالبات کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔منگل کو بھی کئی مقامات پر احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی طرف سے طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ شمالی قصبہ پٹن میںگورنمنٹ ڈگری کالج اور گورنمنٹ ہائر اسکینڈری سکول میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے پہلے کالج اور اسکول احاطے میں احتجاج کیا اور بعد میں سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر آنے کی کوشش کی۔قصبہ میں حزب المجاہدین کے نام سے منسوب پوسٹر چسپاں کئے گئے تھے جن پر طلبائ سے احتجاج کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ مشتعل طلبہ نے ہائر اسکینڈری کے نزدیک گاڑیوں پر پتھرائو بھی کیا اور ٹریفک کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ۔پولیس نے فوری طور حرکت میں آکر احتجاجی طلبائ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اور انہیں منتشر کرنے کیلئے نہ صرف لاٹھی چارج کیا بلکہ اشک آور اور مرچی گیس کے گولے بھی داغے۔ چنانچہ طلبہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر پتھرائو شروع کیا ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ٹیر گیس کے کچھ شیل ڈگری کالج کے احاطے میں گر کر پھٹ گئے جب پولیس کی طرف سے پیلٹ فائرنگ بھی کی گئی ۔اس صورتحال کی وجہ سے قصبے میں اتھل پتھل مچ گئی، دکانیں آناً فاناً بند ہوئیں جبکہ راہگیروں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔پر تنائو حالات کے بیچ طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے نتیجے میں کئی طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ درجن بھر طالبات کو بیہوشی کی حالت میں سب ڈسٹرکٹ اسپتال پٹن منتقل کیا گیا۔چار زخمی طلبہ کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا ہے جن میں سے ایک کی ٹانگوں میں پیلٹ لگے ہیں۔بعد میں مین مارکیٹ اور ملحقہ مقامات پر پولیس اور فورسزکی بھاری جمعیت تعینات کرکے شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال رکھی گئی۔ ادھر حاجن ﴿بانڈی پورہ﴾ سے اطلاع ہے کہ منگل کی صبح گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول حاجن میں زیر تعلیم طلباکی ایک بڑی تعداد اسکول احاطے کے اندر جمع ہوئی اور زوردار نعرے بازی شروع کی۔احتجاجی طلبہ نے احاطے سے باہر آنے کی کوشش کی تو وہاں پہلے سے ہی موجود پولیس کی بھاری جمعیت نے ان پر ٹیر گیس شیلنگ کی جس کے ساتھ ہی طلبہ میں افراتفری پھیل گئی۔بعد میں بس اسٹینڈ کے نزدیک احتجاجی طلبہ اور پولیس کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں ۔پتھرائو،جوابی پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ میں کئی طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے بھی جلوس نکال کر احتجاج کیا اور گرفتار طلبہ کی فوری رہائی کی مانگ کی۔یہاں بھی احتجاجی مظاہروں اور پر تشدد جھڑپوں کی وجہ سے اتھل پتھل کے ماحول میں بازار کچھ دیر کیلئے بند ہوگئے ۔ ضلع اننت ناگ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ضلع کے لارکی پورہ علاقے میں طلبہ نے اُس وقت زوردار احتجاج کیا جب فوجی اہلکاروں نے کالج جارہے ان کے کئی ساتھیوں کی بلا وجہ مارپیٹ کی۔گورنمنٹ ڈگری کالج ڈورو کے طلبہ نے بتایا کہ وہ ایک منی بس میں سوار ہوکر کالج کی طرف جارہے تھے کہ فوج کے19آر آر کیمپ لارکی پورہ کے نزدیک گاڑی روک دی گئی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب مسافروں کو گاڑی سے نیچے اتارا گیا تو فوجی اہلکاروں نے طلبائ کو علیحدہ رہنے کیلئے کہا اور بعد میں ان کی مارپیٹ شروع کردی۔اس موقعے پر گاڑی میں سوار مسافروں بالخصوص خواتین نے مداخلت کرکے طلبہ کو فوجی اہلکاروں کے چنگل سے بچالیا لیکن جب یہ خبر علاقے میں پھیلی تو طلبائ کی ایک بڑی تعداد نے مین مارکیٹ میں دھرنا دیکر فوج کے خلاف نعرے بازی کی۔اس موقعے پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی کچھ دیر کیلئے مسدود ہوکر رہ گئی۔قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل بھی گورنمنٹ ہائر اسیکنڈری اسکول ڈورو کے طلبا نے فوج کے ہاتھوں ان کے ساتھیوں کی مبینہ مارپیٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ ضلع گاندربل میں ڈگری کالج گاندر بل کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے ،جس دوران قمریہ چوک میں پولیس اور احتجاجی طلاب کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں ۔پلوامہ میں بھی طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ٹیر گیس شلنگ کی،جس پر طلبہ نے مشتعل ہو کر پولیس پر پتھرائو کیا۔تشدد بھڑک اٹھنے کے سبب پلوامہ میں معمول کی سرگرمیاں متا ثر ہوگئیں۔ادھر شہر خاص میں بھی طلبہ اور فورسز کے درمیان جھڑپوں ہوئیں جس دوران مشتعل طلبہ نے فورسز پر پتھرائو کیا جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی ۔کئی طلبائ کو حراست میں بھی لیا گیا۔دریں اثنائ تازہ احتجاجی مظاہروں کے بعد سرینگر اور بڈگام میں 4تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ایس پی ہائر سیکنڈری اسکول اور ہائر سیکنڈری وڈگری کالج ماگام میں منگل کو تدریسی عمل متاثر رہا ۔تاہم اسکے باجود طلبہ کا احتجاج جاری ہے ۔

تبصرے