ہف شرمال شوپیان میں کریک ڈائون کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا پتھرائو کے جواب میں فورسز نے پیلٹ گنوں اور ٹیر گیس کا بے تحاشا استعمال کیا ، دو درجن زخمی

17 مئ 2017 (05:53)

جنوبی کشمیر نیازحسین کے ایم این ہف شرمال شوپیان میں اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی، تاہم مقامی لوگوں نے مزاحمت کرتے ہوئے ان پر شدید پتھرائو کیاجس کے جواب میں زوردار ٹیر گیس شیلنگ اور پیلٹ فائرنگ سے قریب دو درجن افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی آنکھ پیلٹ لگنے سے متاثر ہوئی ہے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے علاقے سے تعلق رکھنے والے سرگرم جنگجوئوں کے گھروں میں زبردست توڑ پھوڑ کی اور ان کے اہل خانہ کاشدید زدوکوب کیا۔ پولیس کے ایس او جی اور فوج کی آر آر سے وابستہ اہلکاروں نے بدھوار علی الصبح زینہ پورہ کے ہیف شرمال علاقے کو اچانک گھیرے میں لیا۔فورسز کو علاقے میں مبینہ طور جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔نمائندے نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکاروں نے جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے گھر گھر تلاشی شروع کی تو اسی اثنائ میں مردوزن گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے ۔اس دوران اسلام اور آزادی کے حق میں زوردار نعرے بازی کے بیچ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔ فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھرائو شروع کیا۔ابتدائی طور پر فورسز اور پولیس نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد پر آمادہ مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی، تاہم جب پتھرائو میں شدت پیدا ہوئی مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔ پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فورسز اہلکاروں کی تمام تر توجہ جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کے بجائے صرف سنگباز ی کرنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران فورسز اہلکاروں نے درجنوں رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ اور لوگوں کی بلا لحاظ عمر و جنس شدید مارپیٹ کی جس کے باعث علاقے میں خوف و دہشت پھیل گئی۔لوگوں کے مطابق اہلکار علاقے سے تعلق رکھنے والے سرگرم جنگجوئوں کے گھروں میں بھی داخل ہوئے اور وہاں بھی شدید توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ جنگجوئوں کے اہل خانہ بشمول خواتین کا زدوکوب کیاجس دوران ایک جنگجو کے چاچا کا سر پھوڑ دیا گیا اور اسپتال میں اس کے سر میں کئی ٹانکے لگائے گئے۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ایک طرف جھڑپیں اور دوسری جانب تلاشی کارروائی جاری تھی ۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق کچھ دیر بعد فورسز نے تلاشی کارروائی ختم کرتے ہوئے واپسی کی راہ لی تو اچھن کے نزدیک بھی ان پر شدید پتھرائو کیا گیا۔نتیجے کے طور پر کئی علاقوں میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں جس دوران مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی گئی۔جھڑپوں کے دوران مجموعی طور دو درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے قریب ایک درجن افراد پیلٹ لگنے سے مضروب ہوئے ۔ایک زخمی کی آنکھوں میں پیلٹ لگے ہیں جسے ضلع اسپتال پلوامہ سے مزید علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ تلاشی کارروائی کے دوران معراج احمد گنائی اور خوشحال حمید نامی دو نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔بعد میں اگر چہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے کئی علاقوں میں اضافی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی، تاہم حالات دن بھر کشیدہ رہے۔اس دوران ہیف شرمال سے باہر جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور فورسز کی طرف سے ناکے بٹھائے گئے جہاں گاڑیوں کی باریک بینی سے چیکنگ کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری رہا۔

تبصرے