کشمیر کی سنگین صورتحال ، وزیردفاع اور فوجی سربراہ کی سرینگرآمد، وزیراعلیٰ اور اعلیٰ فوجی کمانڈوں کیساتھ علیحدہ میٹنگیںکنٹرول لائن کا دورہ بھی کریں گے

17 مئ 2017 (05:53)

سرینگر الفا نیوزسروسجموںوکشمیر میں حالات کو کنٹرول کرنے اور امن بحالی کو یقینی بنانے کیلئے مرکزنئی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس سلسلے میں فیصلہ کن مشاورت کیلئے وزیردفاع ارون جیٹلی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے ہمراہ وادی وارد ہوگئے جس  کے دوران وہ یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ کی صدارت کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کی چوکیوں کا معائینہ کریں گے ۔اس دوران گورنر این این ووہرا،وزیراعلیٰ کے علاوہ فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کیساتھ بھی مشاورت ہوگی ۔اس دوران وزیر خزانہ کی حیثیت سے ارون جیٹلی جی ایس ٹی کی میٹنگ کی سرینگر میں صدارت بھی کریں گے ۔ ریاست میں کشیدہ حالات کو بہتر بنانے اور امن بحالی کیلئے مرکزی حکومت عملی طور پر متحرک ہو گئی ہے اوراس سلسلے میں مرکزی حکومت کے چوٹی کے لیڈر اور وزیردفاع ارون جیٹلی عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر کا اہم ترین دورہ کر رہے ہیں اور وہ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے ہمراہ ہنگامی دورے پر کشمیر پہنچ گئے ہیں ۔ارون جیٹلی کو اس ماہ کی 18 تاریخ کو کشمیر آنا تھا لیکن انہوںنے اپنا دورہ تبدیل کرکے ایک روز قبل ہی کشمیر پہنچنے کا فیصلہ لیا ہے تاکہ ریاست میں امن بحالی اور سیکورٹی چلیج سے نمٹنے کیلئے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاست میںامن بحالی کیلئے نئی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ لیا ہے جس کے تحت علیحدگی پسندوںکو الگ تھلک کرکے ان کی جگہ مین اسٹریم لیڈران کیساتھ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔اس دوران ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر دفاع ارون جیٹلی سرینگر پہنچ گئے ہیں اور وہ یہاںریاستی گورنر این این ووہرا کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کیساتھ ملاقات کریں گے جبکہ سیکورٹی کے اعلیٰ افسران کیساتھ ان کی اہم ترین میٹنگ متوقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر دفاع وادی میں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کیساتھ بات چیت کیلئے یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ کی صدارت کریں گے جس میں فوج اور سول انتظامیہ کیساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بھی موجود ہونگی کیونکہ وزیراعلیٰ اس یونیفائیڈ کمانڈ کی سربراہ بھی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تشدد کے سائیکل پر روک لگانے کیلئے اہم ترین فیصلے لئے جائیں گے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا ۔ذرایع کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر دفاع ارون جیٹلی کشمیر میں فیصلہ کن مشاور ت کرنے آرہے ہیں اور اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی گورنر اور وزیراعلیٰ کیساتھ مشاورت عمل میں لائی جائیگی جس میں اس بات پر اتفاق پیدا کیا جائیگا کہ ریاست میںامن دشمن عناصر کیخلاف سختی عمل میں لائی جائے اور حریت لیڈران کو الگ تھلک کیا جائے تاکہ امن بحالی کی کوششیں کامیاب ہوسکیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ وزیردفاع اٹھارہ مئی بھی کشمیر میں ہی رہیں گے اور کنٹرول لائن پر اگلی چوکیوں کا دورہ بھی کریں گے جس کے دوران سرحد وںپر کشیدہ صورتحال اور سرحد پار تازہ گولہ باری سے پیدا شدہ صورتحال کا از خود جائزہ لیں گے جس کے بعد کوئی حکمت عملی مرتب کی جاسکتی ہے ۔ معلوم ہو اہے کہ ارون جیٹلی وزیراعظم کی ہدایت پر کشمیر آرہے ہیں کیونکہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گزشتہ روز صاف کر دیا ہے کہ مرکز میں بھاجپا سرکار کشمیر کے حوالے سے ایک طریقہ کار پر کام کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج بہت جلد نکل آئیں گے ۔ انہوںنے صاف کر دیا ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ اپروچ اختیار کیا جارہا ہے ایک سیاسی پہلو ہے اور دوسرا سیکورٹی پہلو ہے لہذا دونوں پہلووںپر غور کرنے کیلئے مشاورت جاری ہے ۔اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ کشمیر میںامن بحالی کیلئے زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہ وزیراعظم نریندر مودی کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد حتمی حکمت عملی کو منظوری دی جائیگی ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے صاف کر دیا ہے کہ کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی جانب سے دو بھارتی فوجیوں کی لاشیں مسخ کرنے کے بعد جو کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اس پر بھی بات چیت کی جائیگی کہ کس طرح سے ہم اس کا مقابلہ کرسکیں گے جبکہ فیصلہ کن مشاورت میں کشمیر میںسنگبازی اور جنگجووں کیخلاف آپریشن بھی زیر غور ہونگے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکورٹی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کافی حد تک متفکر ہوگئی ہے اور وہ امن بحالی کیلئے نئی نئی تجاویز زیر غور رکھے ہوئے ہیں۔اس میٹنگ میں فوج کے اعلیٰ کمانڈران کیساتھ مشاور ت کی جائیگی ۔ الفا نیوز سروس کو ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ مرکزی وزیر دفاع کی کل شام ریاستی گورنر این این ووہرا کیساتھ ون ٹو ون میٹنگ ہوگی جس کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کیساتھ بھی ملاقات متوقع ہے جس میں دونوں لیڈران کیساتھ امن بحالی اورسیکورٹی صورتحال کو قابو میںرکھنے پر فیصلہ کن مشاورت ہوگی ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیر دفاع اور فوجی سربراہ کی وادی آمد کے حوالے سے کافی ساری تیاریاں کی گئی ہیں اور کل شام وہ اعلیٰ سیاسی لیڈران کیساتھ بھی ملاقا ت کریں گے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق سیکورٹی پہلووںکا جائزہ لینے فوجی سربراہ بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کیساتھ ملاقات کریں گے جس میں حکمت عملی طے کی جائیگی کہ کس طرح سے ملی ٹینسی مخالف آپریشن شروع کئے جائیں گے اور جنوبی کشمیر کے اندر آپریشن کو بھی اسی دورے کے دوران منظوری دی جاسکتی ہے ۔واضح رہے کہ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے مزید کہا ہے کہ کشمیری نوجوان فوج کی مدد کریں تاکہ ریاست میں امن بحالی کو یقینی بنایا جا سکے ۔

تبصرے