راجوری میں گولہ باری کے بعد نقل مکانی جاری رہائشی مکانوں پر مارٹر گولے گرے ، سینکڑوں سکول غیر معینہ عرصہ تک بند کردئے گئے

17 مئ 2017 (05:56)

جموں سرحدپربھارت پاکستان فوج کے ما بین چھٹے دن بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی، دونوں اطراف سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے شدید گولہ بھاری کی گئی، راجوری میں حد متا ر کہ کے قریب مزید525 کنبوں کے 1795افراد کو گھروں سے نکال کر ریلیف کیمپوںمیں پہنچا دیا گیا، کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں اور ایمبولنسوں کو گولہ بھاری کے زد میں آنے والے علاقوں میں تعینات کر کے پولیس اورہیلتھ کے ڈاکٹروں سے نیم طبی عملے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی، راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں 475ا سکولوں کو غیر معینہ عرصے کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنرجموں نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تمام سرکاری اداروں کے افسروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفتروں میں حا ضری کے بعد ہر دن ریلیف کیمپوں کا دورہ کرے اور ان کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کو بہم پہنچانے والی سہو لیات کا از خود جائزہ لے۔16 اور17 مئی کی درمیانی رات کو راجوری کے نو شہرہ، لام اور بھواانی میں پاکستانی رینجرس کی جانب سے بھاری ہتھیا روں سے شدیدگو لہ بھاری کی گئی جو چار گھنٹوں تک جاری رہی ۔ ایک گور نمنٹ ا سکول سمیت 13رہائشی مکا نوں پر مارٹر گولے گر پڑے جن سے انہیں بڑے پیما نے پر نقصا ن پہنچا ۔ رات بھر پاکستانی رینجرس کے جانب سے گولہ بھاری جاری رکھنے کے باعث راجوری کے نو شہرہ ،لان اور بھوانی علاقوں میں سینکڑوں افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوئے جبکہ کئی گاؤ خانے بھی مارٹر شلوں کی زد میں آئے اور کئی مویشیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی۔ زبر دست گولہ بھاری ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ نے 525 کنبوںکے1795 افراد کو گھروں سے نکال کر ریلیف کیمپوں میں پہنچا دیا جبکہ راجوری اور پونچھ کے حد متارکہ کے قریب رہنے والے لوگوں کی بڑے تعدار مسلسل نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ ، 11مئی سے بھارت پاکستان فوج کے ما بین جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی شروع ہوتے ہی را جوری پونچھ اضلاع کے با لائی علاقوں میں سرکاری اور پر ائیویٹ اسکولوں کو غیر معینہ عرصے کے لئے بند کر دیا گیاہے ۔ حد متارکہ پر پا کستان کی جانب سے بڑے پیما نے پر گولہ بھاری جاری رکھنے کے بعد ضلع انتظامیہ نے بلٹ پروف گاڑیاں اور ایمبولنسوںکو متا ثرہ علا قوںمیں پہنچادیا جبکہ جموںو کشمیر پولیس کے جوانوں اور افسروں کو شفا خانوں میں تعینات اور نیم طبی عملے کی چھٹیاں منسوغ کر دی گئیں۔ ڈویژنل کمشنرجموں نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تمام سرکاری اداروں کوتحر یری طور آگاہ کیا ہے کہ وہ ہر دن اپنے اپنے دفتروں میں حاضری دینے کے بعد ریلیف کیمپوں کاازخود دورہ کر کے ان کیمپوںمیں عارضی طور پر مقیم لوگوں کو بہم پہنچائی جانے والی سہولیات کاا از خود جائزہ لیں۔ ادھر فوجی تر جمان کرنل منیش مہتا کے مطا بق 17 مئی صبح 6بجکر45 منٹ پر پا کستانی رینجرس نے بلا کسی اشتعا ل کے با لا کوٹ سیکٹر میں بھی فوج اور سرحدی حفا ظتی فورس کی چو کیوں اور رہائشی علاقوں پر شدید گولہ بھاری کی اور پاکستانی رینجرس کی گو لہ بھاری سے کئی رہا ئشی مکانوں، سر کاری اسکو لوں اور سر کاری عمارتوں کو نقصا ن پہنچا ۔ دفا عی تر جمان کے مطا بق پاکستانی رینجرس کی گو لہ بھاری کا سختی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے پاکستانی رینجرس کی کئی چو کیوں کو تبا ہ کر دیا گیا بھارت پاکستان فوج کے ما بین جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہنے سے حد متارکہ اوربین الاقوامی کنٹرول لائن پر صورت حال انتہائی تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔

تبصرے