کلبھوشن جادھو کی پھانسی پر عالمی عدالت کا حکم موقوفی بھارت نے فیصلہ باعث راحت قرار دیا، پاکستان نے اسے عارضی قرار دیا

18 مئ 2017 (06:20)

نئی دہلییو این آئی ہندستان کو کل ایک بڑی سفارتی فتح اس وقت حاصل ہوئی جب ہیگ میں انصاف کی بین الاقوامی عدالت نے ہندستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھوکی سزائے موت پر حکم موقوفی جاری کردیا ۔ کلبھوشن جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت میں موت کی سزا سنائی تھی۔ عالمی عدالت نے حکم دیا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ معاملہ حتمی طور پر فیصلہ ہونے تک مسٹر جادھو کو پھانسی نہیں دی جائے گی ،  تمام اقدامات کرے۔ سزائے موت رکوانے کی ہندستان کی عرضی پر عدالت نے مزید کہا کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان 2008 کا باہمی معاہدہ بین الاقوامی عدالت کو اس معاملے میں فیصلے کے حق سے دستبردار نہیں کرتا۔ عالمی عدالت کے اس فیصلے کو ہندستان کی پاکستان پر ایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے گذشتہ دس اپریل کو مسٹر جادھو کو ہندستان کا جاسوس قرار یتے ہوئے دہشت گردی اور بغاوت کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ ہندستان نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پاکستان سے مسٹر جادھو کے خلاف چارج شیٹ کے دستاویزات طلب کئے تھے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ عدالت نے نو مئی کو مسٹر جادھو کی سزا پر عبوری روک لگا دی تھی اور 15 مئی کو اس معاملے میں بھارت اور پاکستان کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ دریںاثنائ وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ حکم کی خبر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پھیلنے کے تھوڑی دیر بعدہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ مسٹر کلبھوشن جادھو کے خاندان اور ملک کے باشندگان کیلئے بڑی راحت کا باعث بن کر سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ میں قوم کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم کلبھوشن جادھو کو بچانے میں کوئي کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ دریں اثنائ پاکستان نے اس فیصلہ کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ باقی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کا کیس مضبوط ہے اور آخری حد تک جدوجہد جاری رہے گی۔

تبصرے