جموں وکشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے گورنر راج ناگزیر:فاروق عبداللہ، حکومت انتہائی غیر مقبول ہوگئی ہے اور عوامی تعاون اور اشتراک بھی کھو بیٹھی

18 مئ 2017 (06:21)

سرینگرنیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر چہ صدارتی راج جمہوری نظام کیلئے سم قاتل ہوتا ہے لیکن یہاں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی اسمبلی کو معطل کر کے جموں وکشمیر میں گورنر رول کا نفاذ عمل میں لانا امن و امان کی بحالی کیلئے واحد راستہ باقی رہ گیا ہے ۔ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کا کوئی ریاست دوست سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور یہ اتحاد محض اور محض اقتدار حاصل کرنے کیلئے ہوا ہے ۔ پی ڈی پی نے جس ایجنڈا آف الائنس کے ڈھنڈورے پیٹے تھے ، بی جے پی نے اُس کی دھجیاں اُڑا کر قلم دوات جماعت کے ڈھونگ اور فریب کو بے نقاب کردیا ۔ جہاں تک پی ڈی پی کا سوال ہے انہوں نے مفتی صاحب کے فوت ہونے کے  ساتھ ہی ایجنڈا آف الائنس کو بھی دفنا دیاہے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد محبوبہ مفتی کو تبدیل کرکے بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنانے جارہی ہے ، تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں، ایسے اقدامات سے وادی میں امن کی بحالی نہیں ہوسکتی کیونکہ ان دونوں جماعتوں کا اتحاد ہی ناکام ثابت ہوا ہے اور یہ دونوں جماعتیں نہ توعوام سے کئے ہوئے وعدے پورے کر پائی ہیں اور نہ ہی لوگوں کے اُمیدوں پر کھرا اُتری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتہائی غیر مقبول ہوگئی ہے اور عوامی تعاون اور اشتراک بھی کھو بیٹھی ہے ، جس کا ملاحظہ ہم نے ایس کے آئی سی سی میں دو روز قبل کیا جب خواتین نے وزیرا علیٰ کی تقریر سننا بھی پسند نہیں کیا اور فلک شگاف نعرے بازی کئے ۔ بیچ راستے میں گھوڑے تبدیل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ گورنر رول کا نفاذ اگرچہ سود مند نہیں لیکن موجودہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے گورنر راج میں ہی امن و امان کی بحالی کی اُمید کی جاسکتی ہے کیونکہ موجودہ حکومت ریاست کو 90ئ کے پُرآشوب اور خون آشام دور کے دہانے پر لیکر آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور ناکامی کی وجہ سے ہی گذشتہ30برسوں میں پہلی بار انتخابات کو منسوخ کرنے پڑے اور سری نگر بڈگام کے انتخاب میں 7صرف فیصدی ووٹنگ شرح رہی۔ گورنر راج کے نفاذ سے لوگوں میں پایا جارہا ہے غم و غصہ نہ صرف کم ہوگا بلکہ انتظامیہ بھی سیاسی طور غیر جانبدار ہوجائے گی، جس سے بنیادی گورننس بھی بحال ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی بی جے پی اتحاد کے نااہلی اور اقربانوازی سے بیروکریسی بھی افراتفری کی شکار ہے ، جہاں جونیئروں کو سینئروں پر ترجیح دی جاتی ہے اور کلیدی محکموں کا چارج سونپا جارہاہے ، آئے روز تبادلے اور تقرریاں ہورہی ہیں، جو انتظامی ناکامی کا سبب بن رہی ہے ۔ تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں۔ حکمران صرف اور صرف فوٹو کھنچوانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر پاتی۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کھلے ذہن کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت اور اُس میں کشمیریوں کی شمولیت ہی اس دیرینہ مسئلہ کا حل ڈھونڈ نکالنے میں سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔ نئی دلی کو پاکستان اور کشمیر کے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کا غیر مشروط عمل شروع کرنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں۔

تبصرے