جی ایس ٹی کے 7 قوانین کومنظوری 1211 اشیائ کی ٹیکس شرح طے ، 6اشیائ کا فیصلہ مؤخر،جی ایس ٹی نافذ ہونے سے مہنگائی نہیں بڑھے گی: جیٹلی

18 مئ 2017 (06:25)

سرینگریو این آئی ملک میں ایک قوم، ایک ٹیکس کے تصور کو پورا کرنے کے مقصد سے یکم جولائی سے گڈس اینڈ سروس ٹیکس ﴿جی ایس ٹی﴾ نظام نافذ کرنے کیلئے چل رہی تیاریوں کے درمیان جی ایس ٹی کونسل نے چھ اشیا کو چھوڑ کر تمام 1211 اشیائ کی قیمتیں طے کر دی ہیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں یہاں جاری جی ایس ٹی کونسل کی دو روزہ میٹنگ کے پہلے دن کل اشیائ پر ٹیکس کی شرح مقرر کی گئی جن میں سے 81 فیصد اشیائ پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے کم ہے۔ صرف 19 فیصد پر ہی 18 فیصد سے زیادہ جی ایس ٹی کی شرح ہے ۔ مسٹر جیٹلی نے میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کونسل نے جی ایس ٹی کے سات قوانین کومنظوری دے دی ہے اور ٹرانزیکشن اور رٹرن سے منسلک دو ضابطوں کی قانونی کمیٹی کے ذریعہ تفتیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کی کل ہونے والی میٹنگ میں سروس ٹیکس کی شرح کے ساتھ ساتھ چھوٹ والی اشیائ کی فہرست کو حتمی شکل دیئے جانے کی امیدہے ۔ اس میں سونے اور بیڑی پر بھی جی ایس ٹی ٹیکس کی شرح مقرر کرنے کا امکان ہے ۔ اگر آج کی میٹنگ میں جن امورپر بات چیت ہونی ہے عام  اتفاق رائے نہیں بنتا ہے تو کونسل کی ایک اور میٹنگ ہو سکتی ہے۔ریونیو سیکرٹری ہنس مکھ ادھیا نے جی ایس ٹی ٹیکس کی شرح کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کوئلے پر جی ایس ٹی کی شرح پانچ فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ اس وقت یہ 11.69 فیصد ہے ۔ اسی طرح سے چینی، چائے ، کافی، خوردنی تیل پر بھی پانچ فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔60 فیصد اشیائ پر 12 سے 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ بالوں کے تیل، صابن، ٹوتھ پیسٹ پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد ہے ۔ اناج کو جی ایس ٹی ٹیکس سے الگ رکھا گیا ہے جبکہ اب اس پر پانچ فیصد ٹیکس ہے ۔ دودھ کو بھی جی ایس ٹی ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ کئی ریاستوں کے وزرائ خزانہ نے پوجا کے سامان، ریشمی دھاگہ اور دستکاری جیسی مصنوعات کو جی ایس ٹی سے چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن مسٹر جیٹلی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اور کم از کم اشیائ کو ہی جی ایس ٹی کے تحت چھوٹ دی جانی چاہئے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا ہے کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے سے مہنگائی نہیں بڑھے گی۔ واضح رہے کہ سرینگر میں جمعرات کو مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں گڈس اینڈ سروسز ٹیکس ﴿جی ایس ٹی﴾ کونسل کا 14 واں اور امکانی طور پر آخری اجلاس شروع ہوگیا۔ قابل ذکر ہے کہ پورے ملک میں یکساں ٹیکس سے متعلق یہ قانون امکانی طور پر رواں برس کے یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد پورے ملک میں مختلف اشیائ اور خدمات پر صرف ایک مرتبہ ٹیکس لگے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سرینگر میں شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس ﴿ایس کے آئی سی سی﴾ میں ملک کی 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام والے علاقوں کے وزرائے خزانہ اور فائنانس سکریٹریز نے نئی ٹیکس اصلاحات پر تبادلہ خیال شروع کردیاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں قریب 150 مندوبین شرکت کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ قریب 200 میڈیا اہلکار بھی ایونٹ کی رپورٹنگ کیلئے خصوصی طور سری نگر آ پہنچے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کے اس اہم ترین اجلاس کی میزبان ریاست جموں وکشمیرنے اس نئے قانون کے دائرے میں شامل ہونے یا نہ ہونے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ تاہم ریاستی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے کہا ہے کہ ریاست میں عنقریب جی ایس ٹی پر بحث کیلئے ریاستی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے گا جس میں ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے تناظر میں ہی جی ایس ٹی کے نفاذ پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔

تبصرے