آدھار کارڈ کیلئے بیومیٹرک انتہائی مشکل ہوگیا - لوگوں سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں

11 اگست 2017

سرینگر/جے کے این ایس/ آدھار کارڈ حاصل کرنا لوگوں کیلئے جوئے شیر والا معاملہ بن گیا ہے کیونکہ متعلقہ ایجنسی کے اہلکار لوگوں سے بیومیٹرک رجسٹریشن کیلئے پیسے وصول کرکے سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وادی کے اطراف واکناف سے شکایتیں موصول ہورہی ہیں کہ آدھار کارڈ کیلئے بیومیٹرک رجسٹریشن کیلئے اب پیسے بھی وصول کئے جار ہے ہیں تاہم انتظامیہ اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔ ذرائع کے مطابق آدھار کارڈ کی رجسٹریشن پر مامور اہلکار مبینہ طورپر لوگوں سے پیسے وصول کر رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے دفتر پر آئے ہوئے عوامی وفود نے بتایا کہ پوری وادی میں متعلقہ ایجنسی نے لوگوں کو دو دو دہاتھوں لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔جس ایجنسی کو آدھار کارڈ کی رجسٹریشن کرنے کی ذمہ دار ی سونپی گئی ہے اس کے اہلکار سرکار کی طرف سے مختص جگہوں پر بیٹھنے کے بجائے اپنے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور وہاں پر باضابطہ طور پر لوگوں سے پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔ اس طرح عام صارفین کیلئے آدھار کارڈ حاصل کرنا کارِ دارد والا معاملہ بن گیا ہے۔ غلام احمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ جونہی آدھار کارڈ بنانے کیلئے سینٹر پہنچا تو وہاں پر تعینات عملہ نے بتایا کہ تین ماہ کے بعد اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے ساتھ رابط قائم کریں۔ مذکورہ شہری نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکام کو بھی آگاہ کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ آدھار کارڈ رجسٹریشن کیلئے اب لوگوں کو پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں جبکہ شکم سیری کے عوض سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افراد کے حق میں کارڈ بنانے کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

تبصرے