طلبائ کو ہراساںکرنے اور کولگام ،شوپیان میں ماردھاڑ کے واقعات حریت کے دونوں دھڑوں کی طرف سے مذمت کی گئی

17 مئ 2017 (05:59)

سرینگر حریت کانفرنس’گ‘ نے پنجاب پولیس کی طرف سے 3کشمیری طالب علموں کو ہراساں کرنے اور پھر انہیں کرائے کے کمرے سے بے دخل کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ریاست زیرِ تعلیم کشمیری طلبائ کو تنگ طلب کرنے کا سلسلہ برابر جاری ہے اور اس سلسلے میںبھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کی یقین دہانیاں محض ڈھکوسلہ ثابت ہوئی ہیں اور گراؤنڈ پر کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے۔ حریت کے مطابق بھارت کا کوئی بھی کونہ کشمیری طالب علموں کے لیے محفوظ نہیں رہا ہے۔ انہیں ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے تعلیمی کیرئیر کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ نے چند دن پہلے کشمیری طلبائ کے حوالے سے ریاستی حکومتوں کے نام جو ایڈوائیزری جاری کی تھی اور جس میں انہیں تحفظ فراہم کرانے کی بات کہی گئی تھی، وہ محض باہری دنیا کو دھوکہ دینے کی ایک چال تھی اور اس کا مقصد ان زیادتیوں پر پردہ ڈالنا تھا، جو کشمیری طلاب کے ساتھ بھارت میں روا رکھی جارہی ہیں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ یہ ایڈوائزری دیانتداری اور اخلاص پر مبنی ہوتی تو پھر اس کے بعد اس سلسلے کو بند ہوجانا چاہیے تھا اور کشمیری بچوں کی طرف سے کوئی شکایت سامنے نہیں آجانی چاہئیے تھی اور نہ پنجاب کا واقعہ پیش آجانا چاہیے تھا۔حریت کانفرنس’گ‘ نے اوکے کولگام میں 90ئ طرز کے کریک ڈاؤن کے دوران میں لوگوں کی مارپیٹ کرنے، ہف شرمال شوپیان میں عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کو ٹارگٹ بنانے اور جنوبی کشمیر کے دوسرے دیہات میں ہزاروں لوگوں کو اسجاری صفحہ 5 پر

تبصرے