وزیر اعلیٰ نے زرعی یونیورسٹی شالیمار میں قومی سمپوزیم کاافتتاح کیا، مویشی سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے سائنسدانوں کوکو اختراعی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا

17 مئ 2017 (06:00)

 سرینگروزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے ویٹرنری ڈاکٹروں اور سکاسٹ کے سائنسدانوں سے کہا کہ وہ ریاست میں مویشیوں کے رکھ رکھائو میں بہتری لانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کریں تاکہ ریاست جموں وکشمیر گوشت اور مرغ کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر سکے اور اس سیکٹر میں درآمدات کو کافی حد تک کم کیا جاسکے۔سکاسٹ کے میں ’’ لائیو سٹاک منیجمنٹ اینڈ پروڈکشن ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہ ایک قومی سمپوزیم کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ریاست میں پشو پالن شعبہ اقتصادیات کے ایک آزادانہ سیکٹر کے طور پر سامنے ابھر کر نہیں آیا ہے بلکہ اس سے ہمیشہ زراعت اور باغبانی سیکٹروں سے منسلک سرگرمی تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے سیکٹر کو سائنسی طرزِ طریقے پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سیکٹر میں دیہی اقتصادی منظرنامے میں مثبت تبدیلی لانے کے کافی وسائل موجود ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کو ہر برس کروڑوں روپے مالیت کا گوشت اور مرغ باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے اور اگر پالیسی ، تحقیق اور عمل آوری کی سطح پر بار آور اقدامات کئے جاتے ہیں تو اس رقم کو بچایا جاسکتا ہے اور کافی تعداد میں نوجوانوں کو فائدہ بخش روزگار حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں مختلف اقسام کے مویشی پالنے کیلئے موزون آب و ہوا اور جغرافیائی حالات جاری صفحہ ۱۱ پر

تبصرے