بی سی سی آئی کا پاکستان کیخلاف سیریز کے نقصان کے ازالے سے صاف انکار بھارتی کرکٹ بورڈ مفاہمتی یادداشت کو قانونی معاہدہ ہی نہیں مانتا حکومتی اجازت کے بغیر پاکستان کیخلاف نہیں کھیل سکتا،شہریارخان

18 مئ 2017 (06:26)

کراچی بھارتی کرکٹ بورڈ نے باہمی سیریز کے معاہدے پر عمل نہ کرنے پر پاکستان کو ہونے والے نقصان کی تلافی سے صاف انکار کر دیا ہے۔چیئرمین پی سی بی شہریارخان کے مطابق ایک ہفتے قبل بی سی سی آئی کو جو قانونی نوٹس ارسال کیا تھا اس کا جواب موصول ہو گیا ہے جس میں بی سی سی آئی حکام نے مفاہمتی یادداشت کو قانونی معاہدہ تسلیم نہ کرتے ہوئے ایک بار پھر وہی جواز دیا ہے کہ پاکستان کیخلاف سیریز کیلئے انہیں اپنی حکومت کی اجازت درکار ہے جو نہیں مل رہی لہٰذا باہمی سیریز کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔چیئرمین پی سی بی نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی وجہ سے بھی پاکستان آنے سے قاصر ہیں۔شہریارخان کا کہنا تھا کہ ایم او یو دو ہزار چودہ میں دستخط کیا گیا ایک باقاعدہ معاہدہ ہے کیونکہ اس وقت بھارت کو بگ تھری کے نفاذ کیلئے ان کی حمایت درکار تھی اور ایف ٹی پی پر عمل نہ ہونے سے پاکستان کو چھ اعشاریہ چار ملین ڈالرز کا نقصان ہوا جس کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں خود شہریارخان بھی اعتراف کر چکے تھے کہ ایم او یو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لہٰذا وہ بھارت کیخلاف کیس نہیں کر سکتے لیکن بعد میں انہوں نے قانونی مشیروں سے مشاورت کے بعد قانونی نوٹس کا سہارا لے لیا۔شہریارخان نے مزید بتایا کہ بھارتی بورڈ کو دوبارہ نوٹس بھیجیں گے اور مثبت جواب نہ ملا تو یہ معاملہ آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی کے سامنے لے جائیں گے کیونکہ گورننگ باڈی کو اس بارے میں مکمل آگاہی ہے اور اس پر ہوم ورک بھی کیا جا چکا ہے۔ شہریارخان کے مطابق ان کا کیس مضبوط ہے جسے جیتنے تک لڑیں گے کیونکہ معاہدے میں حکومتی اجازت کی کوئی شرط نہیں تھی اور اجازت لینا بی سی سی آئی کا درد سر ہے۔

تبصرے