کشمیرپر کل جماعتی اجلاس کی اہمیت اور افادیت

02 اگست 2017

 وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں اپنی پارٹی کے یوم تاسیس پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پر امن حل کیلئے لاہور اعلامیہ کو من و عن لاگو کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ اس سے دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی کی سوچ یا خیالات کو نہ تو ختم اور نہ ہی قید کیاجاسکتا ہے بلکہ اگر نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔ اس دوران ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے پی ڈی پی کے ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ پارٹی کشمیر کے حال اور مستقبل پر غو و حوض کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کسی معاملے پر جامع اتفاق رائے قایم ہوسکے۔ اس معاملے پر پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے پر تمام سیاسی جماعتوں جن میں نیشنل کانفرنس، کانگریس، کمیونسٹ پارٹی وغیرہ شامل ہیں کو اعتماد میں لیاجائے گا کیونکہ بقول ان کے کشمیر میں موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے مین سٹریم پارٹیوں کا رول بنتا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی جیسی قومی سطح کی پارٹی کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور پھر جب جامع اتفاق رائے پیدا ہوگا تو بعد میں مزاحمتی لیڈر شپ کو بھی مشاورت کے عمل میں شامل کیاجاسکتا ہے ۔ اس خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس معاملے میں پارٹی لیڈر محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کے سینئرلیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال شروع کیا ہے جس کے بعد ہی کل جماعتی اجلاس کے بارے میں اعلان کیاجائے گیا۔ اس بارے میںسیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور حکمران پی ڈی پی کے اس امکانی اقدام کو اس وجہ سے سراہا جارہا ہے کہ کم از کم ایک نئی سوچ ابھر کر سامنے آئے گی اس کی وضاحت بھی محبوبہ مفتی نے یہ کہہ کر کی کہ کشمیر کو موجودہ صورتحال سے نکالنے اور آیندہ کیلئے بہتر راستہ بنانے کیلئے سیاسی پارٹیوں کا رول بنتا ہے۔ سیاسی حلقوں کا اس پر یہ کہنا ہے کہ واقعی قوموں کی تقدیریں بدلنے کیلئے سیاسی پارٹیوں کو ہی مثبت رول ادا کرنا ہوتا ہے۔ جب تقسیم سے پہلے بر صغیر میں سیاسی طور پر حالات غیر یقینی تھے اور ہر طرف افراتفری تھی انگریز اپنی پوزیشنوں کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے جارہے تھے تو اس وقت بھی کانگریس نے ہی ایک اہم رول اداکیا اور لوگوں کو ایک راستہ دکھایا جس کے نتیجے میں انگریز یہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد ملک تقسیم ہوا اس وقت بھی سیاسی پارٹیوں نے ہی اہم رول ادا کیا۔ غرض سیاسی، معاشی اور اقتصادی معاملات میں سیاسی پارٹیوں کا ہی اہم رول ہوتا ہے جبکہ سماجی تنظیموںوغیرہ کا اس کے مقابلے میں کم رول رہتا ہے ۔ اب جبکہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر پر پی ڈی پی کل جماعتی اجلاس بلانے کی کوشش کرے گی تو دیکھنا یہ ہے کہ اس کا رول کس نوعیت کا ہوگا انہوں نے کہا کہ مشاورت کے عمل میں جب اتفاق رائے پیدا ہوگا تو مزاحمتی قیادت کو بھی شامل کیاجائے گا لیکن ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ آیا مزاحمتی لیڈر شپ کسی ایسے عمل میں شریک ہوگی یا نہیں جو مین سٹریم پارٹی نے شروع کیا ہو ۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ سیاسی عمل یعنی حالات پر قابو پانے اور مسلے کا حل تلاش کرنے کیلئے صرف اور صرف مذاکرات ہی واحد راستہ ہے اسلئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔بشرطیکہ یہ عمل خلوص پر مبنی ہو۔

تبصرے