ہارون

06 مئ 2017 (05:47)

    کشمیر جو قدرتی مناظر کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اور یہ علم و ادب کا گہوارہ بھی رہا ہے یہاں بڑے عالم و فاضل پیدا ہوئے جو کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اسی لئے کشمیر کو ’’ریشہ واری‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے۔ یہاں پر ہر جگہ آثار قدیمہ کے نشانات نظر آتے ہیںجن کی وابستگی بُدھ مذہب ، ہندو دھرم اور اسلام سے رہی ہیں۔  ان ہی آثار قدیمہ میں بُدھ دھرم کے آثار ہارون میں پائے جاتے ہیں ہارون ایک چھوٹا سا گائوں ہے جو سرینگر سے تقریباً ۸۱ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔     ہارون میں ایک مشہور باغ ہے جہاں پر سیاح لوگ ہر اتوار کو آتے ہیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر پانی کا ذخیرہ سربند تھا اور یہی پانی نلکوں کے ذریعے سرینگر کے لوگوں کیلئے پینے کیلئے استعمال کیا جا تا تھا۔     تاریخی لحاظ سے ہارون کی بڑی اہمیت ہے یہاں پر کشان دور کے آثار قدیمہ کے نشانات زبرون پہاڑی کے دامن میں نظر آتے ہیں۔ ابو الفضل نے ہارون کو پڑگنہ پھاگ سے یاد کیا ہے۔ یہ آثار قدیمہ اس وقت کے ہیں جس وقت کشمیر میں مہاراجہ کنشک کی حکومت تھی۔ کشان خانہ بدوش قبیلہ سے تھے اور وسط ایشیائ سے تعلق رکھتے تھے جو کہ چین کے نزدیک ہے اس خاندان کا مشہور بادشاہ کیڈفس رہا ہے اور اس کے بعد اس کا لڑکا کنشک بادشاہ بن گیا۔ آپ کشان خاندان کے مشہور بادشاہ گذرے ہیں۔ مہاراجہ کنشک بدھ مذہب کا پیرو کار تھا۔ آپ نے بُدھ مذہب پھیلانے کیلئے بہت سارے کام کئے۔     مہاراجہ کنشک سنسکرت کا بڑا اودھوان تھا۔ کنشک کے جانشینوں نے شمال مغرب ہندوستان میں ۲۶۱ئ تک حکومت کی سٹین پہلا آدمی تھا جس نے ہارون میں کھدائی کے دوران بدھ مت کے آثار قدیمہ دریافت کئے۔ خیال کیا جا تا ہے کہ جب مہاراجہ کنشک کشمیر کا بادشاہ تھا۔ تو آپ کے وقت میں ایک بدھ عالم ناگ ارجن کشمیر تشریف لائے اور آپ نے اپنے خیالات اور فلاسفی کی تعلیم یہاں کے لوگوں کو دی۔ یہ خیال کیا جا تا ہے کہ آپ کے وقت میں ہی ہارون میں بدھ مندروں اور ہارون کی تعمیر ہوئی تھی۔ مہاراجہ کنشک نے ناگ ارجن کی سربراہی میں بدھ مذہب کی چوتھی عالمی کانفرنس ہارون میں بلائی۔ یہاں بدھ مت کے بڑے بڑے عالم ہندوستان، چین ، تبت، اور کاشغر، یارقندسے تشریف لائے اور خیال کیا جا تا ہے کہ یہاں پر ہی بدھ دھرم کے دو فرقے ہوئے’’ ہن یان، مہایان ‘‘ اور بدھ مذہب کی تعلیم اور اس کے اصول پتھروں پر لکھ کر زمین کے نیچے محفوظ کئے گئے۔     بُدھ و ہار کے کھنڈرات آج بھی ہارون میں نظر آتے ہیں اور مندر میں مختلف طبقے ہیں جو آپس میں سیڑھوں کے ذریعے ملتے ہیں۔ وہار کے نزدیک دو چھوٹے چھوٹے چشمے ہیں ان چشموں کا استعمال وہاں کے لوگ کر تے تھے۔ یہ وہار سامنے کی طرف سے مربع اور پیچھے سے گول شکل کا ہے۔ وہار میں چھوٹے چھوٹے مستطیل شکل کے کمرے ہیں۔ یہاں پر کوئی مورتی وغیرہ نہیں ملی۔ لیکن یہاں پر خوبصورت اینٹیں دریافت ہوئی ہیں۔ جو کہ مختلف ڈیزائن کی ہیں ان اینٹوں پر مختلف اقسام کے بیل بوٹے پھول ، بطخ، مرغے جو آپس میں لڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ بیلوں کی لڑائی ،گائے کے بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا۔ بارہ سنگاہرن ناچنے والی لڑکی ڈرم بجاتے ہوئے آدمی تیر کمان لیتے ہوئے ایک لڑکا پھولوں کی مالا پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مزید ان اینٹوں کی مشابہت وسط ایشیائ کے ممالک کے رہن اور لباس سے تھی ۵۴۹۱ئ میں رام چندر کاک جو کہ اس وقت محکمہ آثار قدیمہ کا ڈائریکٹر تھا اور بعد میں جموںکشمیر کا وزیر اعظم بن گیا کے زیر سرپرستی ہارون میں کھدائی کا کام شروع ہوا۔ مہاراجہ کنشک کے وقت میں بُدھ مذہب کا کشمیر میں عروض حاصل ہوا۔ اور آپ نے اپنے سب سرکاری اہلکار بدھ مذہب کو پھیلانے کیلئے مقرر کئے۔ آپ نے بدھ بھکشوں کو کشمیر سے چین ، تبت کا شغر اور وسطی ایشیائ ملکوں کی طرف بدھ مذہب پھیلانے کیلئے روانہ کئے۔مہاراجہ کنشک بڑا عالم تھا اور خود ہی عالمی اور شاعروں کی عزت اور قدر کرتا تھا۔ مہاراجہ کنشک ۲۴۱ئ میں انتقال کر گیا۔ آپ نے تقریباً ۲۴ سال حکومت کی ۰۲۱ ئ میں تحت نشین ہوا۔ سرزمین کشمیر نے بدھ مذہب کو پھیلانے میں شاندار رول ادا کیا اور یہ اس فرقہ کا ایک اہم مرکز مہاراجہ کنشک کے دور میں رہا۔ اور بہت سارے ممالک سے عالم اور یاتری مذہب سیکھنے کیلئے کشمیر آئے۔ کہا جا تا ہے کہ گوتم بدھ نے کشمیر کے معتدل موسم اور خوبصورت نظاروں کی تعریف کی ہے مزید کہنا ہے کہ کشمیر عبادت کیلئے ایک موزوں جگہ ہے۔ کشمیر اور وسط ایشیائ کے تعلقات بڑے گہرے تھے۔ ناگ ارجن جنوبی ہندوستان میں ایک برہمن کے گھر پیدا ہوا بچپن سے ہی اس کو سیر و سیاحت کا شوق تھا۔ آپ نے اپنی زندگی بدھ مذہب کے پرچار کیلئے وقف کی۔ اور نالندہ میں آپ نے بدھ بھکشوں کو مذہبی تعلیم دی۔ آپ بدھ فرقہ کے بانی تصور کئے جا تے ہیں۔ آپ غالباً پہلی عیسوی صدی میں پیدا ہوئے پھر آپ کشمیر تشریف لائے آپ ایک شاعر ،فلاسفر، ایک طبیب اور بلند پایہ مصنف تھے۔ آپ نے اپنی زندگی ہارون کشمیر میں گذاری اور تیسری عالمی بدھ کانفرنس جو کہ کشمیر میں منعقد ہوئی کے روح رواں تھے۔ مہاراجہ کنشک کی سلطنت کادار الخلافہ پشاور تھا آپ نے بہت سارے وہار اور مندر کشمیر میں تعمیر کئے اور ایک شہر آباد کیا جس کا نام کانسپورہ ہے۔ جو آج بھی اسی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اور بارہمولہ سے تقریباً ۹ کلو میٹر دوری پر ہے۔     مزید ساتویں صدی تک ملکی اور غیر ملکی بودھ عالم ،گیان اور عرفان حاصل کرنے کیلئے کشمیر آتے رہے۔ ساتھ ہی کشمیری بودھ عالم دور دراز ممالک کا رُخ کرکے گیان اور عرفان کے مہاتما بدھ کے پیغام کی خوشبو پھیلاتے رہے۔ کشمیر کے عالم اور بھکشوں چین میں بودھ مذہب کا پرچار کر نے میں رہنمایاںرول ادا کر تے ۔ ناگ ارجن کا کشمیر سے زیادہ ہی تعلق رہا۔ ’’اشوک اودان‘‘ اور ’’دیوی اودان‘‘ دونوں کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ خود مہاتما بدھ کشمیر تشریف لائے تھے۔ وسط ایشیائ میں بودھ دھرم کا پرچا ر کرنے والوں میں کشمیری بھکشوں کا رول نہ صرف نمایاں بلکہ قابل قدر رہا ہے۔ ’’سنگھ بوتی‘‘ ’’گوتم سنگ‘‘ بدھ جیوو‘‘ وہ بلند قامت کشمیری ہیں۔ جنہوں نے اپنی ذہانت اور متانت سے سارے وسط ایشیائ کو حیرت میں ڈال دیا اور کشمیریوں کی صلاحیت کے جھنڈے دور دراز علاقوں میں گاڑھ دیئے۔ کشمیری کاریگروں نے وہار اور ستوپ کو یکجا کرکے ایک نئی شے کو وجود بخشا تبت اور لداخ میں بودھ دھرم کو فروغ دینے میں جو کام کشمیریوں نے انجام دیا ہے۔ کشمیر کم و بیش چودھویں صدی تک بودھ دھرم کامر کررہا ہے۔ کشمیر کے بودھ عالم تبت چین کا شغر، ختن سمیت دوسرے ممالک میں بدھ مذہب کا پرچار کرنے کیلئے جا تے رہتے تھے۔     ہارون کو چھ چشموں کا مجموعہ بھی کہا جا تا ہے یہ تقیباً شالیمار سے ۵ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس کو ’’کتری دج‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے یہ بدھ آثار قدیمہ یہاں اس وقت دریافت ہوئے جب ایک نہر کی کھدائی ہو رہی تھی اور مزید کھدائی کاکام ۰۴۹۱ئ سے لے کر ۵۴۹۱ئ تک ہوا۔ ہارون بدھ مذہب کا ایک عظیم مرکز تھا اور اس کا نام ’’بدھ ستوا‘‘ پڑ گیا۔ پہلی صدی عیسوی مہاراجہ کنشک کے وقت میں جو بدھ کانفرنس منعقد ہوئی اس میں جو بھی فیصلے اس کانفرنس میں طے ہوئے ان کو تانبے کے کتبے پر کندہ کیا گیا اور پتھر کے صندوقوں میں بند کرکے ان کو محفوظ جگہوں میں رکھا گیا۔ خیال کیا جا تاہے کہ یہ کتبے اس وقت بھی زمین کے اندر محفوظ ہیں اور محکمہ آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ شاید پہلگام، شوپیاں ،کانسپورہ، بارہمولہ کنزلون، گریز اور کنٹولین،﴿علاقہ چشمہ شاہی سے ہارون تک ﴾ میں زمین دوز ہیں بدھ مذہب کے پیروکاری بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کر تے ہیں کہ کب یہ خزانہ دریافت ہوجائے اور اس سے کشمیر میں بدھ مذہب کی عظمت کا پتہ چل سکے۔ راقم کو آج سے بہت سال پہلے مشہور تاریخ دان مرحوم پیرزادہ محمد امین ابن مہجور سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی اس بات پر متفق تھے کہ کشمیر کے کسی کونے میں یہ تانبے کے کتبے دفن ہیں جن میں بدھ مذہب کے دو فرقے سہن یان اور مہایان اور تیسری بدھ کانفرنس کا مواددرج ہے۔

تبصرے