جنگ و جدل نہیں ،امن و آشتی

08 اگست 2017

 وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مظفر آباد سے آئے ہوئے ایک ڈیلی گیشن کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ لوگوں کو آپس میں ملانا ان کا مشن ہے اور اس مشن کی آبیاری کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ اس کیساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آر پار بند پڑے راستوں کوکھولنا نہایت ہی اہم ہے اور اس سے اس خطے میں مالی استحکام پیدا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بات زور دے کر بتائی کہ خطے میں مفاہمت اور اقتصادی ترقی سے تشدد اور دشمنی کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور لوگوں کو درپیش تمام مصائیب بھی ختم ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی اور امن کا پیغام بھی عام ہوگا انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بات چیت کے بدلے دونوں ملکوں نے ٹکرائو کا راستہ اپنایا ہوا ہے جس کے سبب مثبت سوچ پر دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منفی سوچ آخر کار ختم ہوجائے گی انہوں نے کہا کہ اعتما د سازی کے حالیہ مرحلے کو اگلی سطح تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل ریاستی حکومت نے بعض مرکزی وزرا ئ کے اس بیان پر شدید ردعمل کااظہار کیا ہے جس میں انہوں نے آرپار تجارت بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے کی تفصیلات جب منظر عام پر آگئیں تو اس پر عوام کا شدید ردعمل بھی سامنے آگیا کیونکہ لوگ بھی چاہتے ہیں کہ آر پار آوا جاہی کے ساتھ ساتھ تجارت کو اور زیادہ فروغ ملے تاکہ اس سے اقتصادی استحکام پیدا ہو۔ سال 2005جب سے سرینگر مظفر آباد راستے کو کھول دیا گیا اور بچھڑے ہوئے خاندان آپس میں ملنے لگے تو لوگوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مثبت اقدام سے تعبیر کیاگیا۔ کاروان امن بس کے چلنے سے لوگو ں کو اپنے ان عزیز و اقارب سے ملنے کا موقعہ میسر ہوا جنہوں نے کئی کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کا منہ نہیں دیکھا تھا ان لوگوں کو اس بات کی اہمیت معلوم ہے کہ کارواں امن بس سروس سے ان کو کتنا دلی سکون میسر ہوا۔ اس کے بعد جب تجارت شروع ہوگئی تو آرپار کے تاجر اس سے جڑتے گئے اور کاروبار بڑھنے لگا لیکن اب گذشتہ دنوں نہ جانے کیوںمرکزی وزیرنے کہا کہ آر پار تجارت بند ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر موصوف کے بیان کی بی جے پی چیف امیت شاہ نے حمایت کی البتہ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ریاستی حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی ریاستی حکومت نے اس معاملے پر جو موقف اختیار کیا ہے اس کے مثبت نتایج برآمد ہونے لگے ہیں۔ کیونکہ یہاں کے لوگ نہ صرف آر پار تجارت سے خوش ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ تعلقات میں جو کشیدگی ہے وہ ختم ہوجائے اور خوشگوار رشتے قایم ہوجائیں تاکہ یہ خطہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔ جنگ و جدل سے دور جہاں ہر جانب امن و سکون ہو اور لوگ آرام سے اپنا روزمرہ کا کام جاری رکھ سکیں ۔لیکن بعض عناصر ایسے ہیں جو امن کے مخالف ہیں ایسے عناصر کیخلاف ریاستی حکومت کو صف آرا ہونا چاہئے اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے جو آر پار محبت، یگانگت، امن اتحاد اور بقائے باہم کا مشن جاری رکھنے میں یقین رکھتے ہوں۔ نفرت، عداوت، جنگ و جدل، بغض ، کینہ ، دشمنی اور تعصب کی آبیاری کرنے والوں کیلئے کشمیری سماج میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے اور ان کو الگ اتھلگ کرنے کی ضرورت ہے ۔

تبصرے