سرینگربین الاقوامی معیارکا شہر کیوں نہیں بن سکا؟

07 مئ 2017 (05:34)

 سرینگر کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے کیلئے وزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کام میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں تاکہ اس شہر کو اتنا خوبصورت بنایا جاسکے تاکہ ہر کوئی اس کی مثال دے سکے ۔ گذشتہ دنوں بنکٹ ہال میں ایک اعلیٰ پایہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں جہاں تعمیر و ترقی کے کاموں کو ترجیح دی جائے گی وہیں پر گندگی اور غلاضت سے بھی شہر کو پاک کرنا ضروری ہے کیونکہ اس شہر کو حال ہی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق سب سے زیادہ گندہ شہر قرار دیاگیا ۔ جس کے بعد یہ ضروری بن گیا کہ اس شہر سرینگر کو خوبصورت بنانے اور اس میں موجود گندگی اور غلاضت ہٹانے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جاسکیں۔ اس سب کیلئے صرف سرکاری ادارے ہی کام نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ہر ایک کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر سرکا ر کو تعاون دینا چاہئے۔ وزیر تعلیم کا یہ کہنا درست ہے کہ شہر سرینگر کو خوبصورت بنانے کیلئے ہر ایک کو اپنا تعاون دینا چاہئے انہوں نے خاص طور پر شہر کے آٹھوں انتخابی حلقوں کے ممبران اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی ان ممبران اسمبلی میں سے بیشتر کا تعلق نیشنل کانفرنس سے ہے جنہوں نے اجلاس میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سرکار پر اس حوالے سے زیادہ ذمہ داریاں عاید ہیں۔ لیکن ایک بات بالکل سچ اور واضح ہے کہ جہاں تک شہر کو گندگی اور غلاضت سے پاک کرنے کا تعلق ہے تو اس کیلئے لوگ بھی ذمہ دار ہیں لوگوں کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے۔ ہر سڑک اور گلی کوچہ کوڑے کرکٹ اور گندگی سے بھر ے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا جہاں جی چاہے وہ کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں۔ اس معاملے میں سرکار کرے تو کیاکرے یہ سراسر لوگوں کی لاپرواہی ہے جن کو اس بات کا احساس نہیں کہ ایسا کرکے وہ کسی طرح بھی اچھے شہری ہونے کا ثبوت پیش نہیں کررہے ہیں۔ اسلئے لوگوں کو اس بات کا بھر پور احساس کرنا چاہئے کہ انہیں کیا کرناہوگا۔اسی طرح جہاں تک تعمیر و ترقی کا تعلق ہے یہ تو ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے اور اس بارے میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔ جہاں جہاں بھی تعمیر و ترقی کے کام ہورہے ہیں ان پرکام سست رفتاری سے جاری ہے ۔ خاص طو ر پر فلائی اوور پر رات دن چوبیس گھنٹے کام جاری رکھنے کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے لیکن صرف ریڈیو سٹیشن کے قریب گریڈ سپریڈ پر کام دن رات جاری ہے اور اگر اسی طرح کام ہوتا رہا ہے تو یہ پروجیکٹ مقررہ مدت کے اندر اندر مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ شہر کو کس طرح خوبصورت بنایا جاسکتا ہے حکومت کو اس کا بھر پور ادراک کرناچاہئے تاکہ واقعی اسے بین الاقوامی نوعیت کا عمدہ شہر ہونے کا شرف حاصل ہوسکے۔ صرف میٹنگوں کے انعقاد سے کوئی کام نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کیلئے عملی کاروائی کی اشد ضرورت ہے جب ایسا ہوگا تو لوگ اس کام میں سرکا رکو بھر پور تعاون دے سکتے ہیں ۔

تبصرے