آرٹیکل 35-Aکا دفاع

09 اگست 2017

آرٹیکل 35-Aاور جی ایس ٹی کے نفاذ کا معاملہ اس وقت پوری وادی میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور لوگ اس بات پر نالاں ہیں کہ مذکورہ آرٹیکل کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے اس ریاست کی مالی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔ اس وقت خاص طور پر آرٹیکل 35-Aہر حلقے اور ہر طبقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور لوگ چاہتے ہیں اس آرٹیکل کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے اور اسے ہر صورت میں تحفظ فراہم کیاجانا چاہئے۔ اس مسلے پر پہلی مرتبہ مزاحمتی قیادت کے ساتھ ساتھ مین سٹریم سیاسی پارٹیاں بھی متفق نظر آرہی ہیں کیونکہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ایک این جی او نے اس آرٹیکل کو سپریم کورٹ میںچلینج کیا ہوا ہے اور اس کی سماعت چھ ہفتے کے اندر اندر ہونے کی توقع ہے اس بارے میں جیسا کہ میڈیا میں آیا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے متذکرہ بالا آرٹیکل کا دفاع کرنے کیلئے متحدہ محاذ تشکیل دیا ہے جس میں تقریباًتمام مین سٹریم لیڈروں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ مزاحمتی قیادت نے بھی اس کیخلاف سنیچر کو ہڑتال کی کال دی ہے اور کہا کہ کسی کو بھی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ دو قدم آگے بڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ اگر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو پوری ریاست میں آگ لگ جائے گی اور سال 2008کی طرز پر یہاں ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی۔ اس دوران حکمران پی ڈی پی نے بھی لوگوں کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر اس بات کا واشگاف طور پر اعلان کیا کہ ریاستی سرکار اس آرٹیکل کا ہر صورت میں دفاع کریگی اور اس مقصد کیلئے کئی معروف ماہرین قانون کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ریاست کے وزیر قانون نے کہا کہ کسی کو بھی اس آرٹیکل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ عدالت میں ماہرین قانون اس کا بھر پور دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے قبل اسی سال جنوری میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی آرٹیکل 35-Aکو عدلیہ میں چلینج کریگا تو سمجھو وہ کشمیر کی روح کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ گویا انہوں نے یہ بات واضح طور پر کہہ دی کہ اس آرٹیکل کے ساتھ کسی کو بھی چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے لیکن سال 2015میں آر ایس ایس نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اس کیخلاف آوازیں بلند کرنا شروع کردیں اور اس کی ایک حمایت یافتہ این جی او نے اس دفعہ کو سپریم کورٹ میں چلینج کیا ہے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ اقتدار میں شریک پارٹی بھاجپانے کہا کہ پارٹی نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ جب تک پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار میں شراکت کا سلسلہ جاری رہے گا یہ پارٹی آئین کی کسی بھی دفعہ بشمول آرٹیکل 35-Aکو عدلیہ میں چلینج نہیں کریگی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جب اس نے اس معاملے پر پی ڈی پی کا سٹینڈ دیکھا اور دوسری طرف لوگوں کی راے کا جائیزہ لیا تو انہوں نے اس بارے میں اپنی پارٹی کے موقف کو سامنے رکھنے کا اعلان کیا ۔

تبصرے