نئی دہلی میں کشمیر پرسیاسی سرگرمیاں تیز

12 مئ 2017 (06:32)

     کشمیر میں کب کیا ہوگا اس بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔آج کل سٹوڈنٹ ایجی ٹیشن چل رہی ہے ۔کبھی یہ رفتار پکڑتی ہے تو کبھی دھیمی پڑجاتی ہے ۔اس دوران شوپیاں میں ایک فوجی افسر کے اغوااورقتل نے حالات کی پیچیدگیوں کو اور بھی بڑھادیا ہے ۔اس وقت ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے اورسیاسی سطح پر غیر یقینی کی سی صورتحال پائی جاتی ہے ۔حال ہی میں کانگریس نے ریاست کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کشمیر پالیسی ساز کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے اور اس کمیٹی کے سربراہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ بناے گئے ۔جنہوں نے کشمیر مسلے کے سیاسی حل کے لئے اپوزیشن کے علاوہ ہم خیال دوسرے لیڈروں سے رابط قایم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اس مقصد کے لئے سب سے پہلے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے علاوہ سیتا رام یچوری ،ڈی راجا ،شرد یادو ،لالو پرشاد یادو اور ممتا بینر جی کے ساتھ رابطے قایم کئے گئے ہیں اور ان کو کشمیر کانفرنس کی اہمیت اور افادیت سے آگا ہ کیاگیا ہے ۔کانگریس کی پالیسی ساز کمیٹی کے اب تک بہت سے اجلاس منعقد ہوے جن میں سابق ممبر پارلیمنٹ طارق حمید قرہ نے بھی شرکت کی ۔ان میٹنگوں میں کشمیر کانفرنس کے خدوخال پر تبادلہ خیال کیاگیا اور اس بات کافیصلہ کیاگیا کہ کشمیر میں قیام امن اور اس ریاست کے سیاسی حل کے لئے کوششوں کا آغاز کیاجاے گا ۔اس بات کا بھی فیصلہ کیاگیا کہ کانفرنس میں نہ صرف اپوزیشن سیاسی رہنماوں کو شرکت کی دعوت دی جاے گی بلکہ سول سوسائیٹی کے علاوہ پی ڈی پی اور بے جے پی کو بھی اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کا موقعہ فراہم کیاجاے گا تاکہ اس میں جو بھی فیصلے لئے جائیں گے وہ اجتماعی نوعیت کے ہوں ۔چنانچہ سیتا رام یچوری کی قیادت میں چار اپوزیشن لیڈروں کا ایک وفد عنقریب وادی کے دورے پر پہنچ رہا ہے ۔وفد یہاں نہ صرف سول سوسائیٹی اور مین سٹریم جماعتوں تک ہی اپنی سرگرمیاں محدود نہیں رکھے گا بلکہ وفد کا بنیادی مقصد مزاحمتی قیادت کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ بھی بھر پور انداز میں اپنا موقف پیش کرسکیںگے ۔ وہ یہاں دوچار دن تک قیام کرے گا ۔سیتا رام یچوری نے از خود اس کی تصدیق کرتے ہوے کہا کہ مجوزہ کشمیر کانفرنس اہم پہل ہے اور ہم سب کو کشمیر مسلے کے سیاسی حل کے لئے یک جٹ ہوکر کام کرناہوگا ۔ابھی تک مخلوط سرکار میں شامل پی ڈی پی اور بھاجپا نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن عام لوگوں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے مسلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف رہنماوں اور پارٹیوں کو اپنا موقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقعہ مل سکتا ہے ۔یہاں یہ ضروری نہیں کہ آیا اس سے مسئلہ حل کرنے کی جانب کوئی اشارہ ملتاہے یانہیں لیکن اتنا ضرورہے کہ دنیا یہ جان سکے گی کہ کشمیر مسلے کے حل کے لئے کوششیں شروع ہوگئی ہیں ۔اور دنیا بھر کے لوگ یہ بھی جان سکیں گے کہ اس مسلے کے بارے میں بھارت کی اپوزیشن اور حکمران پارٹی کے علاوہ ریاست کی مخلوط سرکار میں شامل پی ڈی پی ،مین سٹریم لیڈروں ،سول سوسائیٹی اور مزاحمتی قیادت کا کیاخیال ہے ۔بشرطیکہ اس کانفرنس کے انعقاد کی سرکاری طور پراجازت دی جائیگی ۔

تبصرے