لال چوک کی شان رفتہ بحال کی جائے

15 مئ 2017 (05:48)

 لال چوک کی تاریخی حیثیت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے ۔ کیونکہ لالچوک جسے کبھی شہر کا دل تصور کیاجاتا تھا اب اپنی شان رفتہ کھو بیٹھا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وقت وقت کی حکومتوں کی طرف سے اس کی جانب عدم توجہی قرار دی جاسکتی ہے ۔ عام کشمیریوں کا خیال ہے کہ جس طرح زینہ کدل اور مہاراج گنج کی تاریخی حیثیت ختم کردی گئی ہے اسی طرح اب لالچوک کی بھی تاریخی حیثیت ختم کی جا رہی ہے اور اس میں اب ایسی کوئی کشش نہیں ہے جس کی بنا پر لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے جسطر ح ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کو لالچوک جاکر خریداری کا بہت شوق تھا ۔ لوگ شہر خاص اور دور دراز علاقوں سے آآکر لالچوک میں خرید و فروخت کے بعد ہوٹلوں میں کھاپی کر گھر جاتے تھے ۔ لیکن آج لالچوک صرف وہی لوگ آتے ہیں جن کو کوئی کام ہوتا ہے ورنہ شاپنگ یا کھانے پینے یا لالچوک کو دیکھنے کیلئے کوئی بھی گھر سے نہیں نکلتا ہے ۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ زمانہ ترقی کرگیا ہے اور نئے نئے مارکیٹ عالم وجود میں آگئے لیکن لالچوک کے علاوہ زینہ کدل اور مہاراج گنج کی اپنی تاریخی حیثیت ہوا کرتی تھی جس کو وقت وقت کی حکومتوں نے ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔ آج ان مارکیٹوں کی حالت یہ ہے کہ کوئی ان کی طرف دیکھنا تک پسند نہیں کرتا ہے ۔ کیونکہ ان مارکیٹوں کو جاذب نظر بنانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ لالچوک میں حال ہی میں حکومت نے فٹ پاتھوں کو صاف کیا اور فٹ پاتھوںپر کاروبار کرنے والوں کیلئے ٹرانسپورٹ یارڈ میں جگہ الاٹ کی گئی جس کا ہر مکتب فکر نے خیر مقدم کیا لیکن جہاں جہاں فٹ پاتھ خالی کئے گئے وہاں اب خالی ریڈے رکھے گئے ہیں جس سے حالت وہی پہنچی جہاں پہلے تھی۔ بسکو سکول کے فٹ پاتھ پر ریڈیاں رکھی جارہی ہیں اور اس کے علاوہ وہاں بے شمار موٹر سائیکل رکھے جارہے ہیں۔ پلیڈیم سنیما کی خستہ عمارت میں اب بھی فورسز کیمپ رکھا گیا ہے ۔ سوال کیمپ کا نہیں بلکہ حکومت کی غفلت شعاری کا ہے جس نے بار بار اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ پلیڈیم سنیما کی خستہ عمارت کو منہدم کرکے وہاں کوئی خوبصورت کمپلیکس بنایا جائے گا لیکن آج تک ایسا نہیں کیاگیا۔ اسی طرح یہ عمارت اور کیمپ لالچوک کی خوبصورتی کو دیمک کی طرح کھارہی ہے ۔ اسی طرح صدر کورٹ کی عمارت بھی اسی طرح ویران حالت میں رکھی گئی۔ حکومت صرف لالچوک میں پارکنگ سلاٹ قایم کرنے کے درپے ہے لیکن ان امور کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس سے اس تاریخی مقام کی اہمیت اور ہیت میں چار چاند لگ جاتے ۔ لال چوک کی طرف سیاح کبھی رخ نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس چوک میں ان کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں رکھا گیا۔ بلکہ لالچوک بدصورتی کا گھناونا منظر پیش کرتا ہے ۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ۔ گلی کوچے خستہ ،عمارتیں خستہ ،فٹ پاتھ خستہ ۔ کوئی ایسی چیز نہیں جس کو دیکھ کر فخر سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کشمیر کا تاریخی لال چوک ہے جو اس ریاست کا تجارتی مرکز ہو اکرتا تھا۔

تبصرے