سرکاری احکامات پر عملدرآمدکرنے کی ضرورت

16 مئ 2017 (05:43)

 وزیر اعلیٰ نے سیکریٹریٹ کھلنے کے پہلے ہی دن انتظامی سیکریٹریوں کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ان پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ اپنے پروگراموں میں فیلڈ دوروں کو بھی شامل کریں تاکہ لوگوں کو ان کے گھروں کے نزدیک ہی انصاف فراہم کیاجاسکے اور ان کی مانگوں کو پوراکریں ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ ماہ مبارک کے دوران لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے بجلی ،پانی اور دیگر ضروریات زندگی کو میسر رکھنے کی کوششیں کریں تاکہ لوگو ں کو اس مبارک مہینے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرناپڑے ۔وزیر اعلی کے احکامات بجا لیکن ان کو یہ دیکھناچاہئے کہ آیا ان کی طرف سے جو احکامات صادر کئے گئے ہیں ان پر عمل ہورہا ہے کہ نہیں ۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ سب حکم نواب تا در نواب ثابت ہورہا ہے کیونکہ افسر لوگ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے چھوڑتے ہیں ۔اسلئے اس سب کے لئے مناسب مانیٹرنگ کا بندو بست ہوناچاہئے ۔اگر ایسا نہیں ہوگا یا نہیں کیا جاے گا تو لوگوں کو راحت پہنچانے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا ۔اس وقت ریاستی عوام کو گوناگوں مسایل و مشکلات کا سامنا ہے ۔روز اخبارات اس قسم کی خبروں اور شکائیتوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں کہ مختلف علاقوں میں نہ بجلی ہوتی ہے اور نہ پانی ۔اس کے ساتھ لوگ سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت پر بھی نالاں ہیں ۔لیکن ان کی جائیز شکایتوں کا معمولی سا بھی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے ۔خاص طور پر جہاں تک بجلی کا تعلق ہے جو کٹوتی سرمائی ایام میں ہوتی ہے وہ برابر جاری ہے تعجب تواس بات کا ہے کہ جوعلاقے میٹرڈ ہیں یعنی جہاں میٹر لگے ہوے ہیں اور جن کے بارے میں متعلقہ محکمے نے باربار اعلان کیا کہ ان علاقوں میں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی جاری رکھی جاے گی لیکن اب ان علاقوں میں بھی کٹوتی کی جاتی ہے ۔جبکہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ باضابطہ میٹروں کی ریڈنگ کے حساب سے فیس ادا کرتے ہیں ۔یہی حال پانی کا بھی ہے ۔پہلے بہت کم لوگ واٹر ٹیکس ادا کرتے تھے لیکن اب اس میں بھی لوگ باقاعدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کی فراہمی میں زبردست بے قاعدگیاں برتی جارہی ہیں ۔کہاجارہا ہے کہ لوگ باغوں کو سیراب کرنے اور گاڑیاں وغیرہ صاف کرنے کے لئے پینے کا صاف پانی استعمال کرتے ہیں یہ بھی کہاجارہا ہے کہ بہت سے ورک شاپ اونرس بھی اپنے کارخانوں میں بھی پینے کا صاف پانی استعمال کرتے ہیں ۔ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ۔اسلئے محکمے کو اس کیلئے چیکنگ سکارڈ قایم کرنے چاہئیں ۔تاکہ پانی کے نا جائیز استعمال پر روک لگائی جاسکے ۔اسی طرح ماہ مبارک میں بعض تاجر بلاوجہ مختلف اشیاے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔خاص طور پر قصاب گوشت کی کبھی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اس کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیدا کیا جاسکے ۔اسلئے انتظامیہ کو ابھی سے تاجروں کو متنبہ کرناچاہئے کہ وہ کسی بھی صورت میں ماہ مبارک کے دوران کسی بھی صورت میں اشیاے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے یا ان کی مصنوعی قلت کا موجب نہ بن سکیں ۔

تبصرے