آئین کی دفعہ35Aاور مرکز

31 جولاٸ 2017

 وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی دہلی کے ایک کنکلیومیں کی گئی وہ تقریر اس وقت سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے جس میں انہوں نے آئین ہند کی دفعہ 35Aکے خاتمے کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسا کیاگیا تو کشمیر میں ترنگا تھامنے والا کوئی نہیں ہوگا اور اس کی میت اٹھانے کیلئے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ کشمیر کے کسی وزیر اعلیٰ نے شاید پہلی مرتبہ مرکز کو اس طرح دوٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے بغیر کسی لاگ لپٹی کے کہا کہ اگر آئین ہند کی دفعہ 370کے تحت کشمیر کو دی گئی خصوصی پوزیشن اور دفعہ 35A کو کسی بھی صورت میں چھیڑا گیا یا 35Aکو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیر میں ترنگا یعنی بھارت کاکوئی نام لیوا نہیں ہوگا اور لوگ اس سے دور ہوجاینگے۔ جب حال ہی میں جی ایس ٹی کا معاملہ سامنے آیا تو وادی میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور تاجروں کے علاوہ عام لوگوں نے بھی اس ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر جی ایس ٹی کا دائرہ کار ریاست تک بڑھادیا گیا تو بقول ان کے یہ مرکز کے سامنے ریاست کا مالی سرنڈر ہوگا اور اس سے دفعہ 370اور بھی کمزور ہوگا۔ لیکن وزیرخزانہ نے بار بار اس بات کا اعلان کیا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے اس دفعہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا ہے یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے بھی عوام کو اس بات کا یقین دلایا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے اس ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کسی بھی طور متاثر نہیں ہوگی۔ اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا اور پھر ایوان میں بحث و مباحثے کے بعد جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد آرٹیکل 35Aکی افادیت کو چلینج کیا گیا جس پر عوامی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس کا مطلب ریاست کے پشتینی باشندوں کے حقوق پرشب خون مارناہوسکتا ہے۔ ابھی اس بارے میں کوئی بات واضح طور پر سامنے نہیں آرہی تھی کہ اس دوران وزیر اعلیٰ دلی پہنچ گئیں جہاں انہوں نے وزیر اخزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک کشمیر پر طلب کئے گئے ایک کنکلیومیں شرکت کی جہاں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں مرکز پر یہ بات واضح کردی کہ آئین ہند کے تحت اس ریاست کو دی گئی خصوصی پوزیشن اور اس سے جڑی دوسری مراعات کے ساتھ اگر کسی بھی قسم کی کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو کشمیر میں ترنگے کو تھامنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35Aکے تحت اس ریاست کے پشتنی باشندوں کے حقوق کو فراہم کئے جانے والے تحفظ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے منفی نتایج بر آمد ہونگے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے این آئی اے کی طرف سے حریت لیڈروں کی گرفتاری کو انتظامی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر جہاں اس ریاست میں مثبت ردعمل ظاہر کیاجارہا ہے وہاں دلی میں ان عناصر کی نیندیں اڑنے لگی ہیں جو اس ریاست کو آئین کے تحت دی گئی خصوصی پوزیشن کو ختم کروانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان سے ان پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹنے لگے اور وہ منفی بیان بازیوں پر اترنے لگے۔ بعض نیوز چینلوں نے بھی وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر اپنے اپنے انداز سے تبصرے کرنے شروع کئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کشمیری عوام کسی بھی صورت میں اس آرٹیکل کے خاتمے کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے تحت اس ریاست خاص درجہ حاصل ہے ۔

تبصرے