مہلک بیماریوں کے پھیلائو پر روک کی ضرورت

01 اگست 2017

 وادی کے بعض اضلاع میں ہیپٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی اطلاعات برابر موصول ہورہی ہیں۔ اور اس پر قابو پانے کی سنجیدگی سے کوششیں نہیں ہورہی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بیماری اس تیزی سے نہیں پھیلتی جس طرح یہ وقت پھیل رہی ہے۔ یہ انکشاف وادی کے بعض ڈاکٹروں نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر جنوبی کشمیر کے چار اور شمالی کشمیر کے دواضلاع میں ہپٹائیٹس بی اور سی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ شوپیان ، پلوامہ ، کولگام اور اننت ناگ میں تو اس بیماری میں بہت سے لوگ مبتلا ہوگئے ہیں۔ جن کو اس وقت طبی امداد فراہم کی جارہی ہے لیکن بعض ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ ریاستی حکومت اس بیماری پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ نوعیت کی کوششیں نہیں کررہی ہیں۔ ان ڈاکٹروں نے بتایا کہ لوگوں کو اس بیماری سے بچانے کیلئے جانکاری مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔ جس سے اس کا پھیلائو بڑھتا جارہا ہے۔ حال ہی میں کوکر ناگ کے کئی علاقوں میں درجنوں بچوں سمیت دو سو سے زیادہ افراد بیمار پڑگئے تب اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس علاقے میں فلٹریشن کے بغیر لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔ جب لوگوں میں تشویش پھیلنے لگی تو محکمہ صحت عامہ ڈائریکٹوریٹ آفس سے کئی طبی ٹیمیں کوکر ناگ بھیج دی گئیں جہاں انہوں نے دست اور قے میں مبتلا لوگوں کے ٹیسٹ لئے جس سے یہ ثابت ہوا کہ بیماروں میں سے بیشتر ہیپٹائیٹس بی اور سی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس وقت بھی ان کا علاج ہورہا ہے البتہ بنیادی طور پر یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ناصاف پانی کی فراہمی اس بیماری کے پھیلنے کی بنیادی وجہ ہے ۔ ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ سائینسی آلات کی مناسب سٹرلائیزیشن نہ ہونے سے بھی یہ بیماری پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے کی طرف سے کبھی بھی پرائیوئیٹ کلنکوں، ڈنٹل کلنکوں، باربر شاپوں، چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی کبھی بھی کوئی چکنگ نہیں کی جاتی ہے اور یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے کہ آیا وہاں جو آلات استعمال کئے جاتے ہیں ان کی مناسب سٹرلائیزیشن کی جاتی ہے یا نہیں۔ اس سے بھی متذکرہ بالا بیماری پھیلتی ہے اور اس وقت بھی یہ بیماری وادی کے کئی دور دراز علاقوں میں پائی جاتی ہے جس میں بہت سے افراد مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ صفائی کے فقدان کی وجہ سے بھی یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور اسلئے دیہی باشندوں کواس جانب مناسب جانکاری دینی لازمی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے گائوں میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر ادھر ادھر دیکھے جاتے ہیں۔ ایک ہی تالاب پر مویشی بھی پانی پیتے ہیں اور خواتین بھی برتن اور کپڑے اسی تالاب پر دھوتی نظر آتی ہیں۔ اس جانب لوگوں کو جانکاری دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسا کوئی کام ہرگز نہ کریں جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہو۔ محکمہ صحت عامہ پر اس سلسلے میں خاصی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں کہ وہ لوگوں کو لاگ دار بیماریوں سے بچائو کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے برابر آگاہ کرے تاکہ مہلک بیماریوں کے پھیلائو پر روک لگ سکے ۔

تبصرے