پانی کہاں گیا؟

24 جولاٸ 2017 (08:17)

 آج کل گرمی پورے شباب پر ہے اور اس موسم کا مقابلہ کرنے کیلئے جو چیزیں لازمی ہیں جب وہ دستیاب نہیں ہونگی تو پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ وادی کے کم و بیش ہر علاقے میں نہ صرف پینے کے پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہے بلکہ کئی علاقوں سے آبپاشی کیلئے بھی پانی کی عدم دستیابی کا لوگ رونا رو رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اعلیٰ تربیت یافتہ انجینئروںاور ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے باوجود جب ہم اس موسم میں مشاہدہ کرتے ہیں تو ہر سال جون جولائی اور اگست میں پینے کے پانی یا آبپاشی کیلئے پانی کی قلت محسوس ہوتی ہے۔

 ڈاکٹر فاروق کے حالیہ بیان پر ردعمل

23 جولاٸ 2017 (07:21)

 ریاست کے سابق وزیر اعلی ٰڈاکٹر فاروق عبداللہ کا حالیہ بیان آج کل سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ستر سال سے لٹکا ہوا مسلہ کشمیر حل کرنے کے لئے تیسرے فریق کی ثالثی ناگزیر ہے ۔انہوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاوس کے باہر اخباری نمایندوں کے ساتھ بات کرتے ہوے کہا کہ ستر سال گذر گئے لیکن آج تک مسلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ اس میں تیسرے فریق نے مداخلت نہیں کی ہے لیکن آج جبکہ ریاست میں حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں تو اس صورت میں تیسرے فریق جس میں امریکہ یا چین شامل ہے کی ثالثی لازمی قرار دی جاسکتی ہے

ڈوڈہ میں آسمانی قہر اور متاثرین کی بد حالی

21 جولاٸ 2017 (06:47)

 ڈوڈہ کے ٹھا ٹھری علاقے میں آسمانی قہر نے بڑے پیمانے پر جو تباہی مچادی ہے اس پر ہر آنکھ نم ہے کیونکہ آفات سماوی کے نتیجے میں آٹھ افراد جن میں چار خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیںلقمہ اجل بن گئے۔ اس کے علاوہ درجن بھر عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ مقامی شاہدین جب اس طوفانی رات کا تذکرہ کرتے ہیں تو روح کانپ جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ دن بھر موسلادھار بارشیں ہوتی رہیں جس کے بعد رات کو بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے ساتھ ہی نصف شب اچانک بادل پھٹنے سے خوفناک آوازیں آنے لگیں اور پھر ایسی آوازیں چاروں اور بلند ہوگیں جس سے روح تک کانپنے لگی۔

امن،خوشحالی اور ترقی اب ایک خواب

19 جولاٸ 2017 (05:57)

 اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ کنٹرول لاین پر آئے روز جوگولہ باری ہورہی ہے اور جس سے ہلاکتوں کے علاوہ جائیداد بھی تباہ ہورہی ہے پر عام لوگوں میں برابر فکر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ فوری طور پر مختصرہونا چاہئے۔ منگل کو بھی وادی کے گریز سیکٹر میں فوج کی طرف سے دو دراندازوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا اور کہا گیا کہ سرحد پار سے دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام بنادی گئی۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ دراندازوں کا ایک گروپ جب سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے لگا تو فوج نے ان کو للکارا اور سرنڈر کرنے کے بجائے انہوں نے گولیاں چلائیں اور دفاعی ذرایع کے مطابق دو جنگجو نوجوان ہلاک کردئے گئے جبکہ ان کے ساتھیوں کی تلاش شروع کردی گئی جو بقول فوجی ترجمان آس پاس کے جنگلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔

کشمیر پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت

17 جولاٸ 2017 (06:21)

نئی دہلی میںکل جماعتی اجلاس کے دوران کشمیر کے علاوہ پاکستان کی جانب مرکز کی پالیسی زیر غور لائی گئی۔ اس اجلاس کے دوران اگرچہ دوسرے کئی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا لیکن اجلاس کا زیادہ تر وقت کشمیر کے بارے میںوقف رکھا گیا۔ وزیر داخلہ نے اجلاس میںکشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی اور خاص طور پر 10جولائی کو اننت ناگ میں یاتریوں پر ہوے حملے کے بارے میں شرکائے اجلاس کو آگاہ کیا اور کہا کہ اس گھناونے واقعے میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے مرکز اور ریاستی حکومت مل جل کر کام کررہی ہیں۔

قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کارول

16 جولاٸ 2017 (09:21)

 جب سے وادی میں حالات بگڑگئے اقوام متحدہ نے متعدد مرتبہ بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ آپسی مسایل افہام و تفہیم سے حل کریں تاکہ اس خطے میںامن قائم ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی اس عالمی ادارے نے بار بار اس بات کی وضاحت کی کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اگر بھارت اور پاکستان یعنی دونوں ملک ثالثی کیلئے درخواست کریںگے تو اس صورت میں اقوام متحدہ اپنا رول ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو سراہا اور کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کیلئے تیار ہے لیکن بھارت نے اس پر سخت موقف اپنایا اور کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں کشمیر مسلے پر تیسرے فریق کی مداخلت پسند نہیں کرتا ہے

بھارت ،پاکستان اور اب چین

14 جولاٸ 2017 (09:19)

 وادی میں جہاں حالات برابر مخدوش ہیں تو کنڑول لائین پر بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں اور اب تو سفارتی سطح پربھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشید گی بڑھتی جارہی ہے ۔ حال ہی میں پونچھ سیکٹر میں ہند پاک فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس میں ایک فوجی اس کی بیوی ہلاک اور ان کے چار بچے زخمی ہوگئے جو اب بھی زیر علاج ہیں ۔ اسی طرح پاکستان نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہری آبادی پر مبینہ طور فائیرنگ کے نتیجے میں کئی عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ۔ اس پر اسلام آباد میں مقیم بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ پرطلب کر کے ان کے ہاتھ میںاحتجاجی نوٹ تھمادیا گیا ۔

انسانیت کا قتل

11 جولاٸ 2017 (05:31)

 کشمیری عوام ہمیشہ سے امن پسند رہے ہیں جس کا مظاہرہ وہ بار بار کرچکے ہیں اور کربھی رہے ہیں ۔ 10جولائی کو اننت ناگ میں کھنہ بل کے قریب جو واقعہ رونما ہوا اس پر ہر دل اداس ہے اور ہر آنکھ نم ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب نہتے انسانوں کے قتل کی اجازت نہیںدیتا ہے ۔ جوں ہی یاتریوں کی ہلاکت کی خبر وادی میں پھیل گئی ہر مکتب فکر نے اس کی مذمت کی اور اسے انسانیت کا قتل قرار دیا ۔ کشمیر میںصدیوں سے روائیتی بھائی چارے کی فضا قایم ہے جب بھی یہاں نہتے اور بے گناہوں کا خون بہایا گیا اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش کارفرماتھی ۔

 کشمیر کے مسایل اور مسئلہ کشمیر

03 جولاٸ 2017 (07:43)

 یکم جولائی سے بھارت میں جی ایس ٹی لاگو کیاگیا لیکن ابھی اس مرکزی نظام ٹیکس کو ریاست جموں و کشمیر میں اسلئے لاگو نہیں کیاجاسکا ہے کیونکہ اس ریاست کو آئین کی دفعہ 370کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے۔ تاجروں اور اپوزیشن نے اس نظام ٹیکس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیاہے اور کہا کہ ان تحفظات کو دور کرنے کے بعد ہی جی ایس ٹی کو لاگو کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب ریاستی سرکار نے اس بات کا بار بار اور واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ نئے ٹیکس نظام کو لاگو کرنے سے نہ تو دفعہ 370کو متاثر ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی اس ریاست کی اقتصادی خود مختاری کو آنچ آئے گی ۔

ہائی کورٹ احکامات پر عمل درآمد

02 جولاٸ 2017 (05:36)

صوبائی کمشنر نے ایک خصوصی میٹنگ میں شہر میں ٹریفک نظام میں بہتری لانے کیلئے اقدامات پر حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ نے 8جون کو ایک حکمنامہ صادر کیا جس میں حکام کو ہدایت دی گئی کہ شہر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور سڑکوں پر ان ناجائیز تجاوزات کو ہٹایا جائے جن کی بنائ پر ٹریفک میں خلل پڑرہا ہے ۔ چنانچہ ان احکامات کی روشنی میں صوبائی کمشنر نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا اور ٹرانسپورٹ کمشنر ،وایس چیئرمین لاوڈا اور میونسپل کمشنر پر مشتمل ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی جس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی