کلبھوشن یادو کیس:انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بھارت اور پاکستان قانونی ماہرین کے دلائل

15 مئ 2017 (05:50)

سرینگر انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس کی عدالت میں بھارت پاکستان کے وکلائ نے بھارتی شہری کو سزائے موت دینے کے حق میں مخالفت میں دلائل دئیے اور اپنے اپنے ملک کے نقطہ نگاہ کو عدالت کے سامنے رکھا ، دونوں ملکوں نے ویانہ کنونشن کی خلاف ورزی کا ایک دوسرے پر الزام بھی لگایا ، کراچی میں گرفتار کئے گئے بھارت کے شہری کلبھوشن یادو کو پاکستانی فوجی عدالت نے پاکستان کے خلاف سازش رچانے ، ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے ،خون خرابہ کرنے ، عدم استحکام پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا جس پر بھارت نے عالمی عدات کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے شہری کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پر الزام لگایا کہ کلبھوشن یادو کو کراچی میں نہیں بلکہ ایران میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اپنی گرفت میں لینے کے بعد کراچی پہنچا کر اسے ملک دشمن سرگرمیوں میں پھنسا کر فوجی عدالت کے ذریعے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔ بھارت نے اپنے شہری کو بچانے کیلئے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں عرضی دائر کی اور انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو سزائے موت پر روک لگانے اور عالمی عدالت میں کیس کی نئے سرے سے سماعت شروع کرنے کے بارے میں آگاہ کیا ۔ بھارت پاکستان کے قانونی ماہرین انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں حاضر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتعار اوسہ نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں ملک کے جاسوس کو جب پکڑا جا تا ہے تو اسے تحقیقات کے زمرے میں لایا جا تا ہے اور جرم ثابت ہونے کے بعد ہر ایک ملک کے آئین کے تحت اس ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی عمل میں لائے ۔ اٹارنی جنرل نے کلبھوشن یادو کو پاکستان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملزم نے ملک میں خون خرابہ کرنے ، ملک کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے سازش رچائی تھی اور پاکستان نے اپنے آئین کے تحت اسے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔ ادھر بھارت کے ماہر قانون اور ماہر وکیل ہری سالوے نے عالمی عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ حقائق کے بجائے ضد کی بنیاد پر سنایا گیافیصلہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی فوجی عدالتوں کی شفافیت پر آج ہی سوالات کھڑے نہیں ہوئے ہیں اس سے پہلے بھی فوجی عدالتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پاکستان دہشت گردی سے بین الااقوامی توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔ بھارت کے قانون دان نے 16دفاعت کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی عداکت کو اس بات سے آگاہ کیا کہ کلبھوشن یادو بے قصور ہے اور پاکستان نے ان کو سزائے موت کا فیصلہ سنانے کے جو احکامات صادر کئے ہیں وہ وینا کنونشن کے منافی ہے ۔

تبصرے