فلسطین کی ترقی میں ہندوستان حصہ دار رہے گا :مودی، محمود عباس کے ساتھ پانچ مختلف معاہدوں پر دستخط کئے

16 مئ 2017 (05:44)

نئی دہلییو این آئی ہندوستان نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے پرامن اور پائیدار سیاسی کوششوں کے ذریعے حل تلاش کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کل کہا کہ وہ فلسطین کی معیشت اور وہاں کے عوام کے معیارزندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں میں اس کا پارٹنر بنا رہے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ کل یہاں حیدرآباد ہاؤس میں وفد کی سطح پر دو طرفہ میٹنگ کے بعد مشترکہ بیان میں یہ یقین دلایا۔اجلاس میں ہندوستان نے فلسطین کے ساتھ کھیل، زراعت، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و الیکٹرانکس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دونوں فریقوں کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈروں کو ویزا کی چھوٹ دیئے جانے کے سلسلے میں پانچ مختلف معاہدوں پر دستخط کیے ۔مسٹر نریندر مودی نے اپنے بیان میں فلسطین مسئلے کے تئیں ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایک خود مختار، آزاد، مستقل اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم ہوگی اور وہ اسرائیل کے ساتھ پرامن طریقے سے بقائے باہمی کے جذبے سے رہے گی۔انہوں نے کہا کہ مسٹر محمود عباس کے ساتھ ان کی بات چیت میں مغربی ایشیا کے مسائل اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ مغربی ایشیا کے چیلنجوں کا حل سیاسی مذاکرات کے ذریعے اور پرامن طریقے سے ہو۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک جامع حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جلد سے جلد شروع ہو۔ دو طرفہ سطح پر ہندوستان فلسطین کی ترقی میں پارٹنر رہے گا۔ ہندوستان فلسطین کو ترقی اور صلاحیت سازی کی کوششوں میں مسلسل تعاون دیتا رہے گا۔

تبصرے